اسلامو فوبیا کے خلاف کریک ڈاؤن کیا جائے – وزیراعظم عمران خان

Share on facebook
Share on pinterest
Share on twitter
Share on linkedin
Share on whatsapp

وزیراعظم عمران خان نے عالمی رہنماؤں پر زور دیا ہے کہ سوشل میڈیا پر نفرت انگیز بیانات اور اسلامو فوبیا کے خلاف کریک ڈاؤن کیا جائے۔

رپورٹ کے مطابق کینیڈین براڈ کاسٹنگ کارپوریشن (سی بی سی) کی چیف پولیٹکل نمائندہ روز میری بارٹن کو دیے ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ متاثرہ خاندان کی تصویر دیکھ کر پاکستان میں ہر کوئی حیران ہے کیوں کہ جس طرح اس خاندان کو نشانہ بنایا گیا اس کا پاکستان پر گہرا اثر ہوا۔

وزیراعظم نے کہا کہ مغربی ممالک میں مقامی دہشت گردی کا حالیہ انداز آن لائن انتہا پسندی پر زیادہ توجہ دینے کا تقاضہ کرتا ہے۔

آن لائن انتہا پسندی سے متعلق ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ میرے خیال میں اس کے خلاف بہت سخت کارروائی ہونی چاہیے، جب ایسی ویب سائٹ ہوں جو انسانوں کے درمیان نفرت پھیلاتی ہوں تو ان کے خلاف بین الاقوامی کارروائی بھی ہونی چاہیے۔

واضح رہے کہ کینیڈا کے شہر لندن میں ایک پاکستانی نژاد کینیڈین خاندان کو ٹرک سے بہیمانہ انداز میں کچل دیا گیا تھا اور اس حملے میں 4 افراد جاں بحق جبکہ ایک 9 سالہ بچہ شدید زخمی ہوگیا تھا۔

کینیڈا کی پولیس نے کہا تھا کہ پاکستانی خاندان کو اس لیے نشانہ بنایا گیا کیونکہ وہ مسلمان تھے، یہ خاندان 2007ء میں پاکستان سے کینیڈا منتقل ہوا تھا۔

اس اندوہناک واقعے کے بعد وزیراعظم نے ایک ٹوئٹر پیغام میں اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ اونٹاریو کے علاقے لنڈن میں ایک پاکستانی نژاد مسلمان کینیڈین خاندان کے قتل پر بے حد افسردہ ہوں، دہشت گردی کا یہ قابل مذمت اقدام مغربی ممالک میں بڑھتے ہوئے اسلاموفوبیا کی علامت ہے جس کے تدارک کے لیے عالمی برادری کی جانب سے کلی طور پر اقدامات وقت کی اہم ضرورت ہیں۔

وزیراعظم نے کہا کہ انہوں نے اپنے کینیڈین ہم منصب جسٹن ٹروڈو کے ساتھ یہ معاملہ اٹھایا ہے اور وہ اس مسئلے کی اہمیت سے آگاہ ہیں، وہ ایسے رہنما ہیں جو آن لائن نفرت پھیلانے اور اسلاموفوبیا کے حوالے سے ادراک رکھتے ہیں لیکن دیگر عالمی رہنماؤں کو بھی اس معاملے کی اہمیت کو سمجھنا چاہیے اور اس سے نمٹنے کے لیے اقدامات کرنے چاہیں۔

انہوں نے کہا کہ وہ انتہاپسندی کے خلاف جسٹن ٹروڈو کے بیشتر خیالات سے اتفاق کرتے ہیں لیکن کینیڈا کے بعض قوانین بھی اسلاموفوبیا کا باعث بن رہے ہیں۔

وزیراعظم نے کہا کہ کیبکس بل 21 کا حوالہ دیا جس کے ذریعے سرکاری ملازمین بشمول اساتذہ و پولیس افسران پر اپنی مذہبی علامات پہننے پر پابندی لگائی گئی، یہ بھی سیکولر انتہاپسندی کی ایک شکل ہے جو مسلمانوں کے خلاف عدم برداشت کا سبب بنتی ہے۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ آزادی اظہار رائے کی حد وہاں تک ہے جہاں تک دوسرے انسان کو اس سے تکلیف نہ پہنچے۔