ضم شدہ قبائلی اضلاع کو انکا حق ابھی تک نہیں دیا گیا

Share on facebook
Share on pinterest
Share on twitter
Share on linkedin
Share on whatsapp

جماعت اسلامی خیبر پختونخوا کے امیر سینیٹر مشتاق احمد خان نے بدھ کے روز سینیٹ سیکرٹریٹ میں جمع کرائی گئی.

قرارداد میں موقف اپنایا ہے کہ سابقہ قبائلی اضلاع (Marged Distt) کے غیور عوام نے قیام پاکستان میں تاریخی کردار ادا کیا ہے اور پاکستان بننے کے بعد ہمارے قبائل کا ہمیشہ دفاع وطن میں کلیدی کردار رہا ہے، لیکن بدقسمتی سے قیام پاکستان سے لیکر آج تک ہم قبائلی خطے اور یہاں کے عوام کو وہ توجہ نہ دے سکے جس کے وہ بجا طور پر مستحق تھے۔

25ویں آئینی ترمیم کے بعد سابقہ قبائلی اضلاع کے صوبہ خیبر پختونخوا میں انضمام کی صورت میں قبائلی عوام کے ساتھ وعدہ کیا گیا تھا کہ وفاقی حکومت این ایف سی کا تین فیصد اور سالانہ 100 ارب روپے پر مشتمل ترقیاتی پیکج خیبر پختونخوا کو فراہم کرے گی.

انہوں نے کہا کہ جو کہ مرج اضلاع کی تعمیر و ترقی پر خرچ ہوگا لیکن بدقسمتی سے قبائلی اضلاع کے صوبہ خیبر پختونخوا میں انضمام کو تین سال ہونے کو ہیں اور تاحال وعدے کے مطابق وفاق کی جانب سے سابقہ قبائلی اضلاع اور خیبر پختونخوا کو ان کے آئینی/مالیاتی حقوق نہیں مل رہے جس کی وجہ سے مرج اضلاع میں حکومت کو انتظامی مشکلات سمیت عوام کو بھی شدید مسائل اور مشکلات کا سامنا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ان حالات میں پختونخوا حکومت کو بھی اپنے اگلے مالی سال 2021-22 کی بجٹ تیاری میں شدید مالی مشکلات درپیش ہیں اور قبائلی اضلاع کے ترقیاتی فنڈز پر اس سال کٹ لگنے کا خطرہ ہے جس سے قبائلی عوام کی محرومیوں میں مزید اضافہ ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ یہ ایوان حکومت سے مطالبہ کرتا ہے کہ 25ویں آئینی ترمیم کے بعد سابقہ قبائلی اضلاع کے صوبہ خیبر پختونخوا میں انضمام کے وقت قبائلی عوام کے ساتھ کئے گئے وعدوں کی تکمیل کے لئے فوری طور پر این ایف سی میں مرج اضلاع کے لئے مختص تین فیصد اور حسب وعدہ 100 ارب روپے سالانہ ترقیاتی پیکج کی فراہمی یقینی بنائیں.

انہوں نے خبردار کیا کہ خیبر پختونخوا حکومت اگلے مالی سال 2021-22 کے بجٹ میں سابقہ قبائلی اضلاع کی تعمیر وترقی کے پروگرام کو جاری رکھ سکے اور قبائلی عوام کی محرومیوں کا ازالہ ممکن ہوسکے۔