کینیڈا واقعہ : اسلاموفوبیا کا بڑھتا ہوا تشویشناک رحجان

Share on facebook
Share on pinterest
Share on twitter
Share on linkedin
Share on whatsapp

وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ پاکستانی خاندان کا قتل مغربی ممالک میں بڑھتے ہوئے اسلامو فوبیا کی مثال ہے۔

وزیراعظم عمران خان نے کینیڈا میں پاکستانی خاندان کے قتل کیے جانے پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کینیڈا میں مسلمان پاکستانی نژاد کینیڈین خاندان کے قتل کا سن کر بہت افسوس ہوا

انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کی یہ قابل مذمت حرکت مغربی ممالک میں بڑھتے ہوئے اسلامو فوبیا کی مثال ہے، بین الاقوامی برادری کے ذریعہ اسلاموفوبیا کا مجموعی طور پر مقابلہ کرنے کی ضرورت ہے۔

واضح رہے کہ کینیڈا کی ریاست اونٹاریو کے شہر لندن میں ایک 20 سالہ نوجوان نیتھینیل ویلٹمین نے مسلمان خاندان پر ٹرک چڑھا دیا جس کے نتیجے میں اس خاندان کے چاروں افراد موقع پر جاں بحق ہوگئے جبکہ ایک 9 سالہ بچہ شدید زخمی ہوگیا۔

دوسری جانب وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کینیڈا میں پاکستانی خاندان کے ساتھ پیش آنے والے دلخراش واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ سانحہ انفرادی فعل نہیں بلکہ اسلاموفوبیا کا بڑھتا ہوا تشویشناک رحجان ہے، جس سے معاشرہ تقسیم ہو گا۔

منگل کو قومی اسمبلی میں کینیڈا میں پیش آنے والے افسوسناک سانحہ پر پالیسی بیان دیتے ہوئے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ 7 جون کو علی الصبح کینیڈا کے صوبے اونٹاریو میں افسوسناک واقعہ پیش آیا.

انہوں نے کہا کہ سانحہ میں پاکستانی کینیڈین شہری فیملی کے 5 افراد متاثر ہوئے، 4 شہید ہوگئے اور ایک 9 سالہ بچہ زندگی اور موت کی کشمکش میں ہسپتال میں داخل ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ دل دہلا دینے والا اور دردناک واقعہ ہے، ٹورنٹو میں ہائی کمشنر سے بات ہوئی ہے اور تفصیلات سن کر آنکھ نم ہو جاتی ہے، اٹاپسی رپورٹ ابھی آنی ہے لہٰذا رپورٹ آنے سے پہلے کوئی بات نہیں کرنا چاہتا۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ اسلامو فوبیا حملے مغربی دنیا میں بڑھ رہے ہیں، وزیراعظم اس کا بارہا ذکر کر چکے ہیں اور ہم عالمی برادری کی بھی توجہ اس جانب مبذول کرا چکے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ یہ انفرادی عمل نہیں تھا بلکہ یہ ایک بڑھتا ہوا تشویشناک رحجان ہے، نیوزی لینڈ کی مسجد میں شہادتیں ہوئیں، برطانیہ میں نہتے لوگوں پر چھریوں سے حملے کیے گئے، ان کا کوئی قصور اور گناہ نہیں تھا، فرانس میں جو کچھ ہوا وہ سب کے سامنے ہے جبکہ نیدرلینڈ میں توہین آمیز خاکوں سے پوری امت مسلمہ کے جذبات مجروح ہوئے۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ عالمی معاشرہ تقسیم کی طرف جا رہا ہے، یورپ میں ساڑھے 6 کروڑ مسلمان رہائش پذیر ہیں، کینیڈا میں 20 لاکھ اور امریکا میں 60 لاکھ سے زائد مسلمان مقیم ہیں، مغربی دنیا میں اسلاموفوبیا کے بڑھتے ہوئے رجحان سے معاشرہ تقسیم ہوگا اور حادثات جنم لے سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نے مجھے کہا ہے کہ اس معاملے پر عالم اسلام کو یکجا کرنا چاہیئے کیونکہ اس طرح ہماری آواز میں اثر ہوگا، پوری امہ کو یکجا ہو کر اس مسئلے کو دیکھنا چاہیئے۔

ان کا کہنا تھا کہ یہی قرارداد اقوام متحدہ میں، میں نے پیش کی جو منظور ہوئی، ہم نے اپنے اقوام متحدہ میں مستقل مندوب سے کہا ہے کہ وہ اس معاملے پر عالمی اتفاق رائے قائم کریں۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ یہ ایک نفرت پر مبنی جرم ہے، اس واقعے میں بنیادی عنصر نفرت نظر آ رہا ہے اور ان کا گناہ یہ تھا کہ وہ کلمہ پڑھنے والے مسلمان تھے۔

انہوں نے بتایا کہ متاثرہ خاندان کے سربراہ ایک فزیو تھراپسٹ تھے جو 10 سالوں سے وہاں امن کے ساتھ رہ رہے تھے، اس خاندان کا بنیادی طور پر تعلق لاہور سے تھا اور ان کے ایک بھائی آسٹریلیا میں مقیم ہیں۔

انہوں نے کہا کہ کینیڈین وزیراعظم جسٹن ٹروڈیو نے ٹوئٹ کی ہے کہ وہ اسلامو فوبیا کے حوالے سے اقدامات میں ہمارا ساتھ دیں گے جبکہ اونٹاریو صوبے کی انتظامیہ نے بھی کہا ہے کہ ہمارے دل ٹوٹے ہوئے ہیں، ایسا واقعہ یہاں نہیں ہونا چاہیئے۔

انہوں نے کہا کہ آزمائش کے اس وقت میں کینیڈین حکومت کو اپنا کردار ادا کرنا چاہیئے، ہم نے متاثرہ خاندان کو پیشکش کی تھی کہ میتوں کو پاکستان لانے کے لیے ہم تعاون کریں گے مگر انہوں نے کہا کہ وہ تدفین کینیڈا میں ہی کریں گے۔

شاہ محمود قریشی نے عالمی انسانی حقوق پر زور دیا کہ انہیں اس پر بات کرنی چاہیئے جبکہ عالمی میڈیا کو بھی اس مسئلے کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیئے اور اس رجحان کے تدارک کے لیے انسانی بنیادوں پر آگے بڑھنا ہو گا۔

اس موقع پر مسلم لیگ (ن) کے احسن اقبال نے واقعہ پر اپنے ردعمل میں کہا کہ یہ دلخراش واقعہ ہے جس پر ہر پاکستانی اور مسلمان غمزدہ ہے۔

احسن اقبال نے کہا کہ دنیا بھر میں اسلامو فوبیا کے واقعات ہو رہے ہیں اور ان واقعات سے ہمیں یہ سبق سیکھنا چاہیئے کہ اپنے ملک میں اقلیتوں کے حقوق کو تحفظ فراہم کرنا ہوگا، اگر پاکستان میں اس طرح کا واقعہ رونما ہوتا ہے تو پاکستانیت پر حملہ ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ دنیا میں پرتشدد انتہا پسندی فروغ پا رہی ہے، ہمیں دنیا کو بتانا ہے کہ اسلام کے خلاف نفرت اور تعصب مہذب اور جمہوری ہونے کے دعوﺅں کی نفی ہے۔

احسن اقبال نے تجویز پیش کی کہ اسلامو فوبیا کے واقعات پر قومی اسمبلی کو بین الپارلیمانی یونین کے ساتھ رابطہ کرنا چاہیئے تاکہ دنیا بھر میں پارلیمانوں کے ذریعے اس طرح کے واقعات کے سدباب کے لیے حقیقی معنوں میں کوششیں ہو سکیں۔

اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے کہا کہ وہ وزارت خارجہ اور دیگر متعلقہ شراکت داروں سے مشاورت کے بعد اقدام کریں گے۔

وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے احسن اقبال کی تجویز کو قابل غور اور معقول قرار دیتے ہوئے کہا کہ اسلامو فوبیا پر قوم اور پارلیمان یکجا ہے۔

واضح رہے کہ کینیڈا کے جنوبی صوبہ اونٹاریو میں ایک شخص نے پک اپ ٹرک ایک مسلمان خاندان پر چڑھا دیا، جس کے نتیجے میں 4 افراد جاں بحق ہوگئے اور پولیس نے اس واقعے کو ‘سوچا سمجھا’ حملہ قرار دیا ہے۔