ٹرین حادثہ کا ریسکیو آپریشن مکمل، اپ ٹریک بحال

Share on facebook
Share on pinterest
Share on twitter
Share on linkedin
Share on whatsapp

اندرون سندھ ڈہرکی ٹرین حادثے کے بعد ریسکیو آپریشن مکمل ہوگیا، اپ ٹریک سے بھی ٹرینیں چلنا شروع ہوگئیں۔

حادثے کی ابتدائی رپورٹ کے مطابق حادثہ ریلوے پٹٹری کی ویلڈنگ ٹوٹنے سے پیش آیا، لہٰذا پیر کے روز پیش آنے والے اندوہناک ٹرین حادثے کے بعد 30 گھنٹوں سے زائد وقت تک جاری رہنے والا ریسکیو آپریشن مکمل ہونے کے بعد ٹرین آپریشن اپ ٹریک سے بھی بحال کر دیا گیا ہے۔

ترجمان ریلوے کے مطابق ڈاؤن ٹریک کو فٹ کیا جا رہا ہے، جیسے ہی ٹریک کا کام مکمل ہو جائے گا، ٹرینوں کی روانگی شروع ہو جائے گی۔

پاکستان ریلوے مسافروں سے معذرت خواہ ہے کہ انہیں حادثے کے باعث پریشانی اٹھانا پڑی۔

دوسری جانب ڈپٹی کمشنر گھوٹکی عثمان عبداللہ نے حادثے کے نتیجے میں اب تک کم از کم 65 افراد کے جاں بحق ہونے کی تصدیق کی ہے، جبکہ 100 سے زائد زخمی زیر علاج ہیں.

زیر علاج لوگوں میں سے 50 سندھ اور پنجاب کے مختلف ہسپتالوں میں زیر علاج ہیں، جن میں سے 6 کی حالت تشویش ناک ہے۔

35 افراد کی میتوں کو پنجاب کے شہروں راولپنڈی، فیصل آباد، ملتان، ٹوبہ ٹیک سنگھ، جھنگ، لودھراں روانہ کیا گیا ہے، ریلوے کانسٹیبل دلبر حسین کو خانیوال میں ان کے ابائی گاؤں 146 دس آر میں سپرد خاک کر دیا گیا۔

پلانٹ آپریٹر رب نواز شاہ کی میت راولپنڈی میں پہنچا دی گئی ہے۔

پنجاب کے دیگر جاں بحق افراد میں خوشاب پی اے ایف کا ملازم قیصر اقبال، لاہور کا احمد، شیخوپورہ کے آصف شہزاد اور مہناز نور، ٹوبہ ٹیک سنگھ کا محمد معین، جھنگ کا خرم شہزاد اور رضیہ بی بی، فیصل آباد کا عظمت اور عبدالمعین، کبیروالا کا علی نواز، لودھراں کی صبا بی بی، محمد ریاض، دلبر حسین، شہروز شہزاد، محمد اسلم، تنویر، شفیق، فہیم، محمد اقبال اور فریدہ بی بی، بہاولپور کا ندیم اور نسرین، ملتان کے عثمان، شاہد اور جاوید، راولپنڈی کا ربنواز اور رحیم یار خان کے میاں خورشید اور دعا فاطمہ شامل ہیں۔

آئی ایس پی آر کے مطابق اندوہناک حادثے کے مقام پر ریلیف اینڈ ریسکیو آپریشن مکمل کرلیا گیا ہے جبکہ محکمہ ریلوے کے سینئر عملے نے رتی ریلوے سٹیشن پر دو ٹرینوں کے حادثے کی ابتدائی رپورٹیں مکمل کرلی ہیں۔

ریلوے ذرائع کے مطابق پرماننٹ ورکس انسپکٹر، ایڈ ٹی ایکس آر و دیگر عملے نے اپنی اپنی رپورٹ مرتب کرلی ہیں۔

انسپکشن ٹیم عملے کے ایک رکن کا کہنا ہے کہ حادثہ ٹریک کی ویلڈنگ ٹوٹنے کی وجہ سے پیش آیا جبکہ دوسری انسپکشن ٹیم کا کہنا ہے کہ حادثہ پٹڑی ٹوٹنے سے ہوا۔

سینیئر عملے کی رپورٹ وزیر ریلوے کو بھجوا دی گئی ہیں۔ ٹرین حادثے کی وجہ سے کراچی سے لاہور آنے والی متعدد ٹرینیں منسوخ کر دی گئی ہیں۔