تمام تقریبات اور پروگرامز میں قومی زبان اردو کے استعمال کی ہدایت

Share on facebook
Share on pinterest
Share on twitter
Share on linkedin
Share on whatsapp

وزیر اعظم عمران خان نے اپنی تمام تقریبات اور پروگرامز قومی زبان اردو میں مرتب کرنے کی ہدایات جاری کر دی ہیں۔

پرائم منسٹر آفس سے جاری اعلامیے میں ہدایات جاری کی گئی ہیں کہ وزیر اعظم جن تقریبات اور پروگرامز میں شرکت کریں، ان میں قومی زبان اردو استعمال کی جائے۔

اس سلسلے میں متعلقہ اداروں اور افراد کو وزیر اعظم کی ہدایات پر عمل کیلئے درکار اقدامات کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

یاد رہے کہ 6 سال قبل سپریم کورٹ آف پاکستان نے اردو کو بطور سرکاری زبان نافذ کرنے کا حکم دیا تھا۔

سابق چیف جسٹس جواد ایس خواجہ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 3 رکنی فل بینچ نے اردو کو بطور سرکاری زبان رائج کرنے سے متعلق کیس کا فیصلہ سنایا تھا۔

سپریم کورٹ میں اردو کو سرکاری زبان کا درجہ دینے سے متعلق درخواست کوکب اقبال ایڈووکیٹ کی جانب سے دائر کی گئی تھی۔

عدالت عظمیٰ نے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو آرٹیکل 251 فوری طور پر نافذ کرنے کی ہدایات دیتے ہوئے کہا تھا کہ آئین کا اطلاق ہم سب پر فرض ہے۔

آئین پاکستان کا آرٹیکل 251

آئین پاکستان کا آرٹیکل 251 پاکستان کی قومی زبان سے متعلق ہے۔

اسی آرٹیکل کے مطابق قومی زبان اردو ہے۔ آرٹیکل 251 کی شق نمبر ایک میں کہا گیا کہ پندرہ برس کے اندر اندر اردو کو سرکاری و دیگر اغراض کے لیے استعمال کرنے کے انتظامات کیے جائیں گے۔

آرٹیکل کی شق نمبر دو کے مطابق انگریزی زبان اس وقت تک سرکاری اغراض کیلئے استعمال کی جا سکے گی جب تک کہ اس کے اردو سے تبدیل کرنے کے انتظامات نہ ہو جائیں۔

آرٹیکل 251 کی شق نمبر تین میں کہا گیا ہے کہ قومی زبان کی حیثیت کو متاثر کیے بغیر کوئی صوبائی اسمبلی قانون کے زریعہ قومی زبان کے علاوہ کسی صوبائی زبان کی تعلیم، ترقی اور اس کے استعمال کیلئے اقدامات تجویز کر سکے گی۔

دوسری جانب وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے سیاسی امور ڈاکٹر شہباز گل نے ایک ٹویٹ میں کہا کہ ” وزرا اور سرکاری افسران کو بھی ہدایات جاری کی جائیں گی کہ اپنا پیغام تقاریر اپنی قومی زبان میں عوام تک پہنچائیں۔

انہوں نے کہا کہ ہماری عوام کی زیادہ تعداد انگریزی زبان نہیں سمجھتی۔عوام کی توہین مت کریں۔ وزیراعظم چاہتے ہیں جب بھی کوئی عوام سے جڑا پیغام یا تقاریر ہوں وہ ہماری قومی زبان اردو میں ہوں۔”