پشاور یونیورسٹی میں اربوں روپے کی بے ضابطگیوں کا انکشاف

Share on facebook
Share on pinterest
Share on twitter
Share on linkedin
Share on whatsapp

صوبہ خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور کی یونیورسٹی میں 5 ارب 20 کروڑ روپے سے زائد کی بے ضابطگیوں کا انکشاف ہوا ہے، دستاویزات فراہم نہ کرنے پر 1 ارب 17 کروڑ سے زائد نقصانات کی نشاندہی کی گئی۔

پشاور یونیورسٹی کی آڈٹ رپورٹ میں 5 ارب 20 کروڑ روپے سے زائد کی بے ضابطگیوں کا انکشاف ہوا ہے، آڈیٹر جنرل کی رپورٹ میں آڈٹ اعتراضات سال 20-2019 پر لگائے گئے۔

آڈیٹر جنرل کی رپورٹ میں 5 ارب 20 کروڑ روپے سے زائد کے 52 آڈٹ اعتراضات کیے گئے، دستاویزات فراہم نہ کرنے پر 1 ارب 17 کروڑ سے زائد نقصانات کی نشاندہی کی گئی۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ تنخواہوں اور پنشن کی مد میں 57 کروڑ 18 لاکھ سے زائد کے اعتراضات کیے گئے جبکہ جی پی فنڈ کا ریکارڈ درست نہ رکھنے پر 32 کروڑ 85 لاکھ سے زائد کے اعتراضات کیے گئے۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ ریٹائرڈ ملازمین کو 17 کروڑ 10 لاکھ 80 ہزار کے الاؤنس جاری کیے گئے، غیر منصفانہ کام کی تقسیم کے باعث 8 کروڑ 98 لاکھ سے زائد کا نقصان ہوا۔ پی ایچ ڈی الاؤنس پر 2 کروڑ 61 لاکھ سے زائد کے اعتراضات سامنے آئے۔

دوسری جانب وائس چانسلر پشاور یونیورسٹی کا کہنا ہے کہ وی سی کا چارج سنبھالے مجھے صرف 5 ماہ ہوئے ہیں، بے قاعدگیاں مجھ سے پہلے کی ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ بے ضابطگیاں اور بدعنوانی کو صحیح کرنے کی کوشش کر رہا ہوں، بہت جلد ان تمام بدعنوانیوں کو کلیئر کرلوں گا۔