پشاور یونیورسٹی کے اساتذہ نے حکومتی کمیٹی مسترد کر دیا

Share on facebook
Share on pinterest
Share on twitter
Share on linkedin
Share on whatsapp

صوبائی حکومت نے جامعات کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے کیلئے کمیٹی تشکیل دے دی جسے یونیورسٹی سٹاف کی تنظیم فپواسا نے مسترد کر دیا۔

وزیراعلیٰ خیبرپختونخواہ کے مشیر اطلاعات کی دفتر سے جاری اعلامئے میں بتایا گیا کہ خیبرپختونخوا میں اساتذہ کے مسائل اور یونیورسٹیوں کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے کیلئے پانچ رُکنی کمیٹی قائم کر دی گئی ہے۔

اعلامئے کے مطابق کمیٹی میں محکمہ فائنانس، اسٹیبلشمنٹ اور اعلی تعلیم کے افسران شامل ہونگے جو اساتذہ کے مسائل سُننے کے بعد وزیراعلیٰ کو رپورٹ کریں گے۔

صوبائی حکومت کی جامعات کو درپیش مسائل سے نمٹنے کیلئے پانچ رُکنی کمیٹی تشکیل کرنے کا اعلامیہ

جاری کردہ اعلامئے میں دعوہ کیا گیا ہے کہ حکومت جامعات، اساتذہ اور طلباء کے فلاح و بہبود میں سنجیدہ ہیں اور درپیش چیلنجز حل کیلئے کوشاں ہے۔

پشاور یونیورسٹی میں اساتذہ اور ملازمین کا احتجاج چھٹے روز سے جاری ہے اور ان کا مطالبہ ہے کہ جامعات کے ملازمین کی تنخواہوں سے الاونسز کٹوتی کا نوٹی فکیشن واپس لیا جائے۔

فپواسا کا ردعمل
یونیورسٹی اساتذہ اور دیگر ملازمین کا یونیورسٹی میں اپنے مطالبات کے حق میں احتجاج چھٹے روز میں داخل ہوگیا۔

حکومت کی جانب سے تشکیل کردہ کمیٹی کو یونیورسٹی عملے کی تنظیم فیڈریشن آف آل پاکستان یونیورسٹیز اکیڈیمک سٹاف ایسوسی ایشن (فپواسا) نے مسترد کرکے اسے اساتذہ کی مذاق اُڑانے کے مترادف قرار دیا۔

فپواسا کے جنرل سکرٹری ڈاکٹر صادق علی نے ٹی این این کو بتایا کہ بنیادی طور پر یونیورسٹیز کو مسئلہ انہی اشخاص سے ہیں جن کو کمیٹی میں شامل کیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ محکمہ اعلٰی تعلیم کے حکام نے یونیورسٹیوں کے وائس چانسلرز کو جنوری میں ایک خط لکھا تھا جس میں کہا گیا ہے کہ بارہ ہزار ملازمین کیلئے اپنی تنخواہوں کا نظام بنایا جائے اور اُنکے الاؤنسسز اور دیگر سرکاری مراعات ختم کی جائے۔

ڈاکٹر صادق علی کہتے ہیں “اب مسئلہ محکمہ اعلٰی تعلیم کے حکام سے بنا ہے، اٗنہی کی وجہ سے تو یونیورسٹیوں کے عملے نے احتجاج شروع کیا ہوا تو کیسے وہ ہمارے مسائل حل کر سکتے ہیں”؟

ڈاکٹر صادق نے کہا کہ اگر حکومت مسائل کو حل کرنے میں سنجیدہ ہے تو وزیراعلٰی یا کسی وزیر کے سطح پر کمیٹی تشکیل دی جائے۔

یاد رہے کہ پیر کو صوبائی اسمبلی کے سامنے پشاور یونیورسٹی کے اساتذہ، کلاس فور اور کلاس تھری ملازمین نے اپنے مطالبات کے حق میں احتجاج کیا تھا جس پر پولیس نے لاٹھی چارج اور آنسو گیس کے شیلز فائر کئے تھے، مظاہرمیں 10 پروفیسروں سمیت 21 افراد کے خلاف کورونا وبا پھیلانے اور مین شاہراہ کو بند کرنے کے الزام میں مقدمات بھی درج کئے تھے جنکو منگل کے روز عدالت سے ضمانتیں بھی مل گئیں۔

پشاور یونیورسٹی ٹیچر ایسوسی ایشن کے صدر ڈاکٹر فضل خالق نے بتایا کہ حکومت نے جامعات کو ہدایات کی ہے کہ خرچے کم کرے اور اپنے وسائل سے انتظام چلائیں۔

ڈاکٹر فضل نے کہا کہ حکومتی ہدایات کا مطلب یہ ہوا کہ طلباء پر فیسیں بڑھائی جائے، یہ ناممکن ہے اور وہ اسلئے کہ پھر یہاں صرف امیر کا بچہ پڑھے گا جبکہ غریب اپنے فیس ادا نہ کرنے کی وجہ سے تعلیم سے محروم رہ جائے گا۔

حالیہ جاری کردہ اعلامئے پر پشاور یونیورسٹی ٹیچرز ایسوسی ایشن کے سابق صدر جمیل احمد چترالی نے ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ اٗن کا نہیں خیال کہ تشکیل کردہ کمیٹی اساتذہ اور یونیورسٹی کے مفاد میں رپورٹ تیار کرینگے۔

انہوں نے تشکیل کردہ کمیٹی کو یونیوسٹی اساتذہ کی مذاق اُڑانے کے مترادف قرار دیا اور کہا کہ حکومت نے گریڈ 21 اور 22 کے پروفیسروں کی مسئلے سے عام ملازمین کو مسئلہ بنا دیا، “یہاں پر 21 اور 22 گریڈ کے اساتذہ کو سڑکوں پر گھسیٹا گیا ہے ، گریڈ 17 اور 18 کے افسران کے ساتھ کیسے بات کی جائے گی”۔

جمیل چترالی نے اساتذہ کے ساتھ کی گئی تشدد اور یونیورسٹیوں کو درپیش مسائل سے نمٹنے کیلئے جوڈیشل کمیشن کا مطالبہ کیا۔