ضلع خیبر : پانچ سال بعد موبائل انٹرنیٹ سروس بحال

Share on facebook
Share on pinterest
Share on twitter
Share on linkedin
Share on whatsapp

قبائلی ضلع خیبر کے تحصیل لنڈی کوتل سمیت کئی علاقوں میں پانچ سال بعد موبائل انٹرنیٹ تھری جی اور فور جی کی سروس بحال ہوگئی جس پر مقامی لوگوں میں خوشی دیکھی جا رہی ہے۔

پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن کی جانب سے جاری کئے گئے اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ تمام موبائل کمپنیوں کو ضلع خیبر اور بلوچستان کے چند علاقوں میں انٹرنیٹ سروس شروع کرنے کی ہدایات جاری کی گئی ہے۔

لنڈی کوتل کے مقامی لوگوں کے مطابق وہاں پر فی الحال صرف ٹیلی نار کی جانب سے تھری جی کے سگنلز آ رہے ہیں جبکہ دوسری کمپنیوں کے سگنلز ابھی تک بحال نہیں ہوسکے ہیں۔

اسی طرح ضلع کے دوسرے تحصیلوں میں بھی انٹرنیٹ سروس کی بحالی خبر فائل کرنے تک ممکن نہ ہو سکی تھی لیکن مقامی لوگوں نے حکومتی اعلان کو خوش آئند قرار دیا ہے اور امید ظاہر کی ہے کہ پی ٹی اے کا اعلان وزیراعظم عمران خان کے اعلان کی طرح صرف اعلان کی حد تک نہیں ہوگا بلکہ عملی طور پر سروس بحال کر دی جائے گی۔

بلوچستان کے جن اضلاع میں ڈیٹا سروس بحال کیا گیا ہے ان میں تربت شہر ، کیچ ، آواران ، پنجگور ، واشک اور قلات شاہراہوں کے ساتھ ساتھ یعنی آر سی ڈی ایچ ، این 30 ، این 85 اور آواران بیلا روڈ شامل ہیں۔

اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ ان علاقوں میں حکومتی ویژن کے مطابق سکیورٹی کی وضع دیکھنے کے بعد موبائل کمنیوں کو انٹرنیٹ سروس شروع کرنے کی ہدایات کی گئی ہے۔

پی ٹی اے کی جانب سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ موبائل کمپنیوں کو جہاں ممکن ہو وہاں اپنی سروس بہتر کرنے، ٹو جی سے تھری اور فور جی میں اپگریڈ کرنے کا بھی کہا گیا ہے جبکہ اس کے علاوہ انہیں یہ ہدایات بھی جاری کی گئی ہیں کہ جو علاقے اس سروس سے محروم ہیں وہاں جلد از جلد اپنی سروس کو وسعت دیں تا کہ تمام شہریوں کو انٹرنیٹ سے استفادہ کرنے کا موقع مل سکیں۔

پی ٹی اے نے کہا ہے کہ ڈیٹا سروس کی بحالی سے ان علاقوں کے لوگوں کو تعلیم، صحت، تجارت اور مواصلاتی ضروریات کو پورا کرنے میں مدد ملے گی اور باقی ماندہ علاقوں میں بھی سکیورٹی صورتحال دیکھنے کے بعد یہ سروس بحال کر دی جائے گی۔