پاک ویک کے نام سے پاکستانی کووڈ ویکسین تیار

Share on facebook
Share on pinterest
Share on twitter
Share on linkedin
Share on whatsapp

عالمی وباء سے بچاؤ کے عمل کو تیز کرنے کے لیے چین کی مدد سے تیار کردہ اور پاکستان میں پیکنگ کے بعد کورونا ویکسین “پاک ویک” کو متعارف کرا دیا گیا۔

چین کی مدد سے پاکستان میں تیار کی جانے والی کورونا ویکسین پاک ویک کے اسلام آباد میں لانچ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اسد عمر نے کہا کہ یہ قدم جو آج اٹھایا گیا ہے، یہ کورونا سے بچاؤ کے سلسلے کی ایک کڑی ہے۔

پاکستان میں کورونا وائرس کی ویکسین کی پیکنگ کے عمل کو انقلابی اقدام قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ تمام دنیا سمیت کووڈ پاکستان کے لیے بہت بڑا چیلنج ہے، لیکن ہر مشکل گھڑی میں کچھ مواقع بھی دستیاب ہوتے ہیں اور ہم نے ان مواقع کا استعمال کرنے کی کوشش کی۔

اسد عمر نے کہا کہ ہم کوشش کر رہے ہیں کہ جو فیصلے ہم کر رہے ہیں، وہ آج کے مسئلے کے لیے تو ہماری مدد کریں، لیکن یہاں سے ہم جو سیکھ رہے ہیں، جو کمزوریاں ہمیں نظر آرہی ہیں، ان کا مستقل حل بھی نکالتے جائیں۔

اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ 18ویں ترمیم کے بعد سے نظام صحت کا اختیار صوبوں کے پاس ہے، لیکن اس حوالے سے معلومات نہیں ملتیں کہ کوئی قومی فیصلہ ہوسکے، کیونکہ یہ بیماری ملکوں کی سرحدوں کو تسلیم نہیں کرتی، آمدن، مذہب کو نہیں دیکھتی۔

انہوں نے کہا کہ اچھے فیصلے کرنے کے لیے ضروری ہے کہ یہ معلوم ہو کہ ملک میں کیا ہو رہا ہے، نظامِ صحت میں کتنی صلاحیت موجود ہے۔

اسد عمر نے کہا کہ اس ضمن میں نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی) کے ذریعے مضبوط ڈیٹا مرتب کیا گیا،

اس میں این آئی ایچ اور دیگر ذیلی اداروں نے بہت بڑا کردار ادا کیا اور وہ صورتحال پیدا ہوئی کہ روزانہ صبح ہمارے پاس پورے ملک کی واضح صورتحال موجود ہوتی ہے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ ہسپتالوں کے حوالے سے ہمیں فکر تھی، کیونکہ ہمیں آکسیجن کی کمی ہو جانے کے خدشات لاحق تھے کہ خطے میں ایسی صورتحال دیکھی گئی تھی۔

انہوں نے کہا کہ کورونا وائرس کی پہلی لہر میں جتنے مریض آکسیجن پر تھے، اس سے 60 فیصد زیادہ مریض تیسری لہر میں تھے، جو ہم نے اب دیکھا لیکن پہلی لہر کے دوران یہ زیادہ سنا گیا ہوگا کہ ہسپتالوں میں بیڈ نہیں ہیں، لیکن تیسری لہر میں یہ بات سنی نہیں گئی، کیونکہ اس حوالے سے مؤثر انتظامات کیے گئے۔

اسد عمر نے کہا کہ صحت کا سب سے بڑا منصوبہ ہم نے اس سال کورونا وائرس سے نمٹنے کے لیے لانچ کیا اور 60 ارب روپے کی رقم وفاق جبکہ دیگر صوبوں کی رقم ملا کر 100 ارب روپے نظامِ صحت کی بہتری کے لیے خرچ کیے جا رہے ہیں۔

وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ آج ہم جس مقصد کے لیے یہاں موجود ہیں، اس کے دیرپا نتائج حاصل ہوں گے۔

اسد عمر نے کہا کہ ہماری آنکھوں کے سامنے چند ماہ میں بڑا انقلاب آیا، حکومت کی ترجیحات میں تعلیم اور صحت بنیادی چیزیں ہیں۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ اس وقت دنیا میں پہلی ڈیمانڈ کورونا ویکسین کی ہے اور دیگر مغربی کورونا ویکسینز کے مقابلے میں پاکستان میں چینی ویکسین کی مانگ سب سے زیادہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس ضمن میں ہمیں چین کی معاونت حاصل ہے، ہم چین کی ترقی سے بہت متاثر ہوئے ہیں اور آپ سب جانتے ہیں کہ وزیراعظم عمران خان متعدد مرتبہ چین کی ترقی کا حوالہ بھی دیتے ہیں۔

اسد عمر نے کہا کہ یہ انتہائی خوشی کی بات ہے کہ چین نے ہمیشہ کی طرح پاکستان کا ساتھ دیا ہے اور اس عالمی چیلنج میں بھی چین نے پاکستان کا ساتھ دیا ہے اور اس پر ہم چین کے مشکور ہیں۔