‘سماجی رابطے کی ویب سائٹس سے بیرونی سازش کا امکان ‘

Share on facebook
Share on pinterest
Share on twitter
Share on linkedin
Share on whatsapp

لاہور ہائیکورٹ میں سوشل میڈیا پر گستاخانہ مواد کو نہ ہٹانے کے خلاف درخواست پر سماعت ہوئی۔

چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے کہا ہے کہ سوشل میڈیا کنٹرول نہ ہوا تو بیرون ملک بیٹھ کر پاکستان کے خلاف سازش کی جا سکتی ہے۔

چیف جسٹس نے پوچھا کہ اگر کوئی بیرون ملک سے نامناسب مواد اپ لوڈ کرے تو اس کا ٹرائل کیسے ہوگا۔

وکیل درخواست گزار نے کہا کہ قانون موجود ہے، اگر کوئی بیرون ملک بیٹھ کر بھی کچھ اپ لوڈ کرتا ہے تو اس کے خلاف کارروائی ہوسکتی ہے۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ ایک آدمی اگر برطانیہ میں قتل ہو جاتا ہے تو پاکستان میں ٹرائل نہیں ہوسکتا۔

فیس بک، ٹویٹر، انسٹاگرام اور دیگر سوشل میڈیا کنٹرول نہ ہوا تو بیرون ملک بیٹھ کر بغاوت کے لیے ابھارا جا سکتا ہے اور پاکستان کے خلاف سازش کی جا سکتی ہے۔

لاہور ہائیکورٹ نے سماعت آئندہ ہفتے کے لیے ملتوی کرتے ہوئے وکلا کو تیاری کرنے کی ہدایت کر دی۔

یاد رہے کہ لاہور ہائیکورٹ میں سوشل میڈیا پر توہین آمیز مواد کیخلاف درخواست پر سماعت ہوئی جس میں ڈائریکٹر سائبر کرائم ایف آئی اے بابر بخت قریشی سمیت دیگر افسران پیش ہوئے۔

چیف جسٹس محمد قاسم خان نے کہا ہے کہ عدالت کی معاونت کی جائے کہ گوگل پر مقدمہ درج کیا جا سکتا ہے یا نہیں۔ چیف جسٹس ہائیکورٹ جسٹس قاسم خان نے بلال ریاض شیخ ایڈووکیٹ کی درخواست پر سماعت کی۔

وفاقی حکومت کی جانب سے ڈپٹی اٹارنی جنرل اسد علی باجوہ اور ڈائریکٹر ایف آئی اے سائبر کرائم بابر بخت قریشی سمیت دیگر افسران پیش ہوئے۔

درخواستگزار وکیل بلال ریاض شیخ نے کہا عدالت نے پوچھا تھا کہ کیا گوگل کیخلاف مقدمہ درج ہو سکتا ہے؟ اس حوالے سے عرض ہے کہ تعزیرات پاکستان کی دفعہ 3 کے تحت پاکستان سے باہر ہونیوالے جرم کا مقدمہ درج ہو سکتا ہے۔

چیف جسٹس محمد قاسم خان نے استفسار کیا کہ ٹرائل کس طرح ہوگا؟ وکیل نے جواب دیا کہ تعزیرات پاکستان کی دفعہ 295 سی کے تحت کارروائی ہو سکتی ہے.

سپریم کورٹ کا 2006ء کا فیصلہ موجود ہے، جس میں توہین آمیز مواد پر مقدمات کئے گئے۔

میاں عرفان اکرم ایڈووکیٹ نے کہا تعزیرات پاکستان کے تحت اگر کوئی شخص پاکستان سے باہر ہو اور وہاں جرم کرے تو مقدمہ درج ہو سکتا ہے۔

عدالتی معاون ملک اویس خالد ایڈووکیٹ نے کہا ضابطہ فوجداری کی دفعہ 5 کے مطابق پاکستان سے باہر ہونیوالے جرائم کا ٹرائل ہو سکتا ہے۔

چیف جسٹس محمد قاسم خان نے کہا حکومتی عہدیداران بچانے کیلئے کوشش کر رہے ہیں، وہ اس وقت نہیں سمجھ رہے، فیس بک، انسٹا گرام، ٹویٹر اور دیگر سوشل میڈیا پر کنٹرول نہ ہوا تو پھر تو وہاں سے بیٹھ کر بغاوت کیلئے بھی اُبھارا جائے گا.

انہوں نے کہا کہ اس معاملے پر اگر کچھ نہ ہوا تو پھر توکوئی بیرون ملک بیٹھ کر پاکستان میں دہشتگردی کی سازش بھی کر سکتا ہے۔

عدالت نے کیس کی سماعت ایک ہفتے کیلئے ملتوی کرتے ہوئے وکلاء کو تیاری کرکے آنے کی ہدایت کی۔