اسمگلنگ روکنے کیلئے پختونخوا میں نیا کسٹم نظام لانے کا فیصلہ

Share on facebook
Share on pinterest
Share on twitter
Share on linkedin
Share on whatsapp

خیبرپختونخوا میں کسٹم کا نیا آپریشنل نظام قائم کیا جائے گا اور اسمگلنگ کیلیے زیادہ استعمال ہونے والے اضلاع میں نئی کسٹم کلکٹریٹ قائم کی جائیں گی.

ایف بی آر ذرائع کے مطابق خیبر پختونخوا میں چیف کلکٹر کسٹمز عہدے کا کوئی افسر موجود نہیں ہے.

صوبے کیلئے چیف کلکٹر کسٹمز کا نیا عہدہ تخلیق کیا جائے گا جو پورے صوبے میں محکمہ کسٹمز کا سربراہ ہوگا ۔ ڈیرہ اسماعیل خان میں نئی کسٹمز کلکٹریٹ قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے جو صوبے میں تیسری کسٹم کلکٹریٹ ہو گی۔

ایف بی آر کے تیار کردہ نئے ایس اوپیز کے مطابق ملک بھر میں چیف کلکٹرز اور کلکٹرز کی ذمہ داریوں کا از سر نو تعین کردیا گیا ہے۔

خیبر پختونخوا اور سندھ میں کسٹم کلکٹریٹس کے آپریشنل اختیارات میں ردوبدل کیا گیا ہے جبکہ پاکستان کسٹمز کے حوالے سے سب سے اہم تبدیلیاں پنجاب میں کی جائیں گی۔

اسمگلنگ کی روک تھام میں ناکامی پر ملتان کسٹم کلکٹریٹ کی زمینی حدود اور اختیار میں کمی کی جائے گی ،کسٹمز کلکٹریٹ ملتان سے ساہیوال، فیصل آباد اور سرگودھا ڈویژنز میں اسمگلنگ کی روک تھام کی ذمہ داری واپس لیکر کلکٹر کسٹمز انفورسمنٹ لاہور کے سپردکرنے کا فیصلہ کیا گیاہ

ے۔ ایف بی آر ذرائع کے مطابق اس وقت ملک بھر میں فروخت ہونے والی اسمگل شدہ اشیاکا 80فیصد کوئٹہ سے ملک بھر میں بھیجا جاتا ہے اور اس تمام نیٹ ورک کا سرغنہ ایک ہی گروہ ہے۔