معروف پشتو ادیب سلیم راز 82ہم سے بچھڑ گئے

Share on facebook
Share on pinterest
Share on twitter
Share on linkedin
Share on whatsapp

عالمی امن پشتو کانفرنس کے چیئرمین اور صدارتی ایوارڈ یافتہ پشتو ادیب سلیم راز طویل علالت کے بعد 82 سال کی عمر میں خالق حقیقی سے جا ملے۔

معروف ترقی پسند انقلابی شاعر، ادیب، صحافی اور نقاد سلیم راز کی نمازجنازہ چارسدہ میں ادا کی گئی، جس میں اہم سیاسی شخصیات اور علاقہ معززین نے بھی شرکت کی۔

سلیم راز 29 مارچ 1939ء کو چارسدہ کے ایک گاؤں میں پیدا ہوئے اور ابتدائی تعلیم مشن پرائمری سکول بنوں سے حاصل کی۔

وہ پشتو عالمی کانفرنس کے بانی اور ترقی پسند تنظیم عوامی ادبی انجمن (پشتو شاخ) پختونخوا کے کنوینر بھی تھے۔

سلیم راز نے 2 پشتو عالمی کانفرنسوں کا انعقاد بھی کرایا تھا جبکہ وہ ملک گیر سطح پر پاکستانی زبانوں کی ترقی و ترویج کے لیے سرگرم رہے اور مسلسل 22 سال تک انجمن مصنفین (خیبر پختونخوا) کے جنرل سیکریٹری کی ذمہ داریاں احسن طریقے سے نبھاتے رہے۔

ان کی تصانیف میں زخمونو سپرلے (زخموں کی بہار)، تنقیدی کرخے، لہ باڑے تر باڑہ گلی (باڑے سے باڑہ گلی تک) رپوتاڑ، زہ لمحہ لمحہ قتلیگم، (میں لمحہ لمحہ قتل ہوتا رہا) پشتو شاعری اکسٹھ سال، پشتو انشائیہ پچاس سال، پشتو سفر نامہ پچاس سال اور اردو مقالوں کا مجموعہ شامل ہیں.

یاد رہے کہ سلیم راز کی پچاس سے زیادہ کتابیں غیر مطبوعہ ہیں۔