ڈبرہ مہاجر کیمپ میں ملوث ملزم ضلع خیبر سے گرفتار

Share on facebook
Share on pinterest
Share on twitter
Share on linkedin
Share on whatsapp

ٹانک پولیس کی پروفیشنلزم اور انتھک محنت سے مہاجر کیمپ ڈبرہ سے اغواء ہونے والی بچی بحفاظت بازیاب جبکہ ملزم کو گرفتار کر لیا گیا.

مہاجر کیمپ ڈبرہ سے شادی کی غرض سے اغواء کی جانیوالی 14سالہ بچی کو ضلع خیبر کے علاقہ جمرود سے ٹانک پولیس نے باحفاطت بازیاب کرا کر ملزم سمیت اس کے تینوں سہولت کار بھی گرفتار

ضلعی پولیس سربراہ سجاد احمد صاحبزادہ نے ڈی پی او آفس میں ڈی ایس پی ہیڈ کوارٹر اقبال بلوچ اور ایس ایچ او ایس ایم اے فہیم ممتاز کی موجودگی میں ہنگامی پریس کانفرنس کیا.

پریس بریفنگ میں ے میڈیا کو بتایا کہ 27اپریل کو تھانہ مرید اکبر شہید کی حدود مہاجر کیمپ ڈبرہ سے 14سالہ بچی مسماۃ(الف) کوگھر کے اندر گھس کر شادی کی غرض سے اغواء کر لیا گیا تھا.

انہوں نے کہا کہ اس دوران بچی کی والدہ مسماۃ(ن بی بی)نے اپنی بچی کو اغواء کار کے چنگل سے چھڑانے کی کوشش کی تو ملزم نے اس پر فائرنگ کی جسکی زد میں آکر بچی کی والدہ زخمی ہوگئی.

انہوں بتایا کہ بچی کی والدہ نے تھانہ مرید اکبر شہید میں اپنی بچی کی اغوائیگی کی رپورٹ مبینہ ملزم منور سکنہ شیخ اوتار پر درج کر ادی.

ڈی پی او کا کہنا تھا کہ گھر کے اندر گھس کر بچی کو اسلحہ کے زور پر اغواء کرنا اور اسکی والدہ کو زخمی کرنا ٹانک پولیس کے لئے ایک چیلینج سے کم نہیں تھا.

انہوں نے بتایا کہ ملزمان کی فوری گرفتاری اور بچی کی باحفاظت بازیابی کے لئے ڈی ایس پی ہیڈ کوارٹر اقبال بلوچ اور ایس ایچ او ایس ایم اے کی نگرانی میں پولیس کی تین چھاپہ مار پارٹیاں تشکیل دی گئیں.

میڈیا کو بتایا کہ پولیس نے سی ٹی ڈی کے ساتھ سائنسی طریقوں پر تفتیش کا آغاز کرتے ہوئے پشاور،جمرود اور ٹانک میں چھاپوں کا سلسلہ شروع کر دیا اور پولیس کی انتہائی خفیہ حکمت عملی کے ساتھ جمرود کے ایک مسافر خانہ پر چھاپہ مار کر مغوی بچی کو برآمد کا لیا.

انہوں نے کہا کہ ملزم کو مقاع پر گرفتار کر لیا جبکہ اسکے علاوہ تفتیشی عمل کے دوران پو لیس نے ملزم کے تین سہولت کاروں کو بھی گرفتار کر کے ان کے خلاف مقدمات درج کر لئے ہیں.

ڈی پی او کا بتانا تھا کہ ملزم کے سہولت کاروں میں سے گرفتار ہونیوالا ایک مبینہ ملزم پولیس اہلکار ہے جسکو شامل تفتیش کرکے معطل کر دیا گیا ہے اور اسکے خلاف محکمانہ کاروائی بھی شروع کر دی گئی .

انہوں نی کہا کہ بچی کی باحفاظت بازیابی کے لئے آئی جی پولیس ڈاکٹر ثناء اللہ عباسی مسلسل ٹانک پولیس کے ساتھ میں رابطے میں رہے جبکہ ڈی آئی جی ڈیرہ ریجن شوکت عباس ٹانک میں موجود رہے تاکہ بچی کی باحفاظت واپسی کو یقینی بنایا جا سکے.

ٹانک پولیس نے پانچ گھنٹوں کے اندر نہایت بہترین حکمت عملی کے ساتھ بچی کو بھی بازیاب کرایا اور ملزم کو بھی گرفتار کیا ڈی آئی جی ڈیرہ اور ڈی پی او کی جانب سے کاروائی میں حصہ لینے والے پولیس افسران کو نقد انعام اور سرٹیفیکٹس دینے کا بھی اعلان کیا گیا۔