ضلع خیبر : پسماندہ علاقوں کے لیے خصوصی ترقیاتی پیکیج تیار

Share on facebook
Share on google
Share on twitter
Share on linkedin

حکومت خیبرپختونخوا نے ضلع خیبر کے پسماندہ علاقے زخہ خیل بازار اور اس سے ملحقہ علاقوں کے لیے خصوصی ترقیاتی پیکیج تیار کرلیا-

ترقیاتی پیکیج کی لاگت 2.2 ارب روپے ہے اور اس کا دورانیہ تین سال کا ہوگا جبکہ ترقیاتی پیکج علاقے کی پسماندگی مدنظر رکھتے ہوئے ترتیب دیا گیا ہے.

اس پیکیج تحت سات شعبوں بلدیات، پبلک ہیلتھ انجینئرنگ، ایریگیشن، زراعت، سکل ڈویلپمنٹ، لائیو سٹاک، جنگلات میں منصوبوں پر کام کیا جائے گا.

ترقیاتی پیکج کا بنیادی مقصد ایسے منصوبے متعارف کرانا ہے جس سے تیز تر روزگار مہیا ہوسکے اور معاشی ترقی کا عمل پروان چڑھ سکے منصوبے سے علاقے میں کاروبار کے مواقع میسر آئیں گے.

یہ خصوصی ترقیاتی پیکج حکومت اور کمیونٹی کی باہمی مشاورت سے ترتیب دیا گیا ہے.

منصوبے کے تحت علاقے میں کاروبار کے فروغ، صاف پینے کے پانی کی فراہمی کے منصوبوں، آبپاشی کے منصوبوں، زراعت کی بحالی، نوجوانوں کو روزگار شروع کرنے کے لیے ٹریننگ، سکالرشپ پروگرامز، لائیو سٹاک کے فروغ، جنگلات کی دیکھ بھال کے منصوبے شامل ہیں.

خصوصی ترقیاتی پیکج کے تحت قابل ذکر منصوبوں میں صاف پانی کی فراہمی کے 10 منصوبوں کے لیے 4.6 کروڑ روپے جبکہ 42 سولر پریشر پمپس کے لیے 17 کروڑ روپے مختص ہے.

اس منصوبے میں پرانے صاف پانی کی فراہمی کے منصوبوں کی دوبارہ بحالی کے لیے دو کروڑ روپے، ایریگیشن چینلز کے 13 منصوبوں کے لیے 8 کروڑ روپے، سیلاب سے بچاو کے 22 منصوبوں کے لیے 16 کروڑ روپے مختص کیے ہیں.

اس پیکج میں پانی ذخیرہ کرنے کے 15 تالاب کے لیے 16 کروڑ روپے جبکہ 21 سولر ٹیوب ویلز کے قیام کے لیے 21 کروڑ روپے رکھے گئے ہیں-

زراعت کے شعبے میں 56 کروڑ روپے کی لاگت سے فصلوں کی پیداوار بڑھانے، کسانوں کی صلاحیت بڑھانے کے منصوبوں اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کے فروغ کے منصوبوں پر کام کیا جائے گا.

اس ترقیاتی پیکیج میں نوجوانوں کی کاروبار اور تکنیکی صلاحیت بڑھانے کے لیے 20 کروڑ روپے کی لاگت سے سکل ڈویلپمنٹ کے منصوبے متعارف کرائے جائیں گے جس سے 1000 نوجوانوں مستفید ہوں گے.

17 کروڑ روپے کی لاگت سے لائیو سٹاک کے منصوبوں جس میں علاقہ مکینوں کو مویشیوں کی فراہمی، پولٹری کے فروغ، مویشیوں کی ویکسینیشن کے منصوبوں پر کام کیا جائے گا.

خصوصی ترقیاتی پیکج کے تحت کمیونٹی کو پودوں کی فراہمی اور نرسریاں لگانے کے لئے 4 کروڑ روپے رکھے گئے ہیں.

اس ترقیاتی منصوبے میں علاقے کے نوجوانوں کو ابتدائی طور انٹرنشپ کی فراہمی کے لیے 2 کروڑ روپے رکھے گئے ہیں جبکہ منصوبے کو حتمی شکل دینے کے بعد قبائلی اضلاع کے تیز تر ترقیاتی پروگرام سے فنڈ کیا جائے گا.