ضلع خیبر: ‘کلمہ گو نہیں لیکن مقدس مہینے کا احساس ہے’

Share on facebook
Share on pinterest
Share on twitter
Share on linkedin
Share on whatsapp

رمضان کے مقدس مہینے میں منافع نہ کمانے والے سکھ دکاندار کے چرچے پشاور ہائی کورٹ پہنچ گئے.

اشیائے خوردنوش کی قیمتوں میں بے تحاشہ اضافے کے خلاف دائر رٹ کی سماعت کے دوران چیف جسٹس قیصر رشید خان نے کہا کہ ضلع خیبر میں ایک سکھ دکاندار جو رمضان میں عوام کو کم قیمت پر اشیاء فراہم کرتے ہیں.

انہوں نے کہا کہ اس مہینے میں وہ منافع نہیں کما رہے حالانکہ وہ کلمہ گو نہیں ہے لیکن اس کو اس رمضان کے مقدس مہینے کا احساس ہے.

انہوں نے کہا کہ دوسروں تاجروں کو بھی اس کی تقلید کرنی چاہیے جبکہ عدالت نے ڈپٹی کمشنر خیبر کو سکھ دکاندار کے پاس جانے اور ان کی حوصلہ افزائی کرنے کی بھی ہدایت کی۔

گزشتہ روز جب خوردنی اشیاء کی قیمتوں میں اضافے سے متعلق کیس پر سماعت شروع ہوئی تو اس دوران وفاقی ایڈیشنل سیکرٹری فوڈ سیکورٹی، سیکرٹری فوڈ خیبر پختونخوا خوشحال خان، صوبائی مشیرخوراک خلیق الزمان، ڈپٹی کمشنر پشاور کیپٹن (ر) خالد محمود، ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخوا شمائل احمد بٹ اور اے اے جی سید سکندر حیات شاہ بھی عدالت میں پیش ہوئے۔

دوران سماعت اس بات کا انکشاف ہوا کہ جمرود خیبر میں سکھ کمیونٹی سے تعلق رکھنے والے ایک دکاندار ہے جو ماہ رمضان میں منافع نہیں کما رہا اور اپنی ہی قیمتوں پر اشیائے خوردونوش فروخت کر رہا ہے.

پشاور ہائی کورٹ نے چیف جسٹس قیصر رشید خان اور ڈپٹی کمشنر خیبر کو سکھ دکاندار کے پاس جانے اور ان کی حوصلہ افزائی کرنے کی بھی ہدایت کی اور دیگر مسلمان دکانداروں کو سکھ دکاندار کی تقلید کرنے کی تلقین کی۔

یاد رہے کہ رمضان کا مہنیہ شروع ہوتے ہی اشیائے خورد ونوش کی قیمتوں میں اضافہ ہوتا ہے لیکن ضلع خیبر ایجنسی کے علاقہ جمرود میں نرنجن سنگھ اپنی دکان پر اشیا کی قیمتیں حکومتی نرخ سے بھی کم رکھتا ہے۔

ضلع خیبر ایجنسی کے علاقے جمرود کے بازار میں نرنجن سنگھ نے 1991 میں کریانہ کی دکان کھول تھی۔

آغاز میں دشواری یہ تھی کہ قبائلی عوام اس کی دکان سے خریداری میں جھجک محسوس کرتے تھے کیونکہ نرنجن کا تعلق ان کے مذہب سے نہیں تھا، لیکن نرنجن سنگھ مایوس نہیں ہوا۔

نرنجن خود کم گو اور شرمیلا انسان ہے اور صرف اپنے گاہکوں اور علاقے کے بزرگوں سے ہی گفتگو کرتا ہے۔

علاقے میں دہشت گردی کی لہر سے سکھ اور مسیحی برادری کے لوگ اپنے مذہب کے لوگوں تک ہی محدود ہو کر رہ گئے تھے لیکن 25 سالہ نرنجن کا بیٹا گرمیت سنگھ اپنے والد کے برعکس لوگوں کے ساتھ ہر وقت رابطے میں رہتے ہیں۔

جمرود بازار میں پاک افغان شاہراہ پر واقع خالصہ کریانہ اسٹور میں نرنجن اور اس کے بیٹے پورے مہینے کسی بھی آئٹم میں اپنا منافع نہیں رکھتے اور یہاں تک کے دکان کا کرایہ بھی اپنے جیب سے دیتے ہیں۔

گرمیت سنگھ کہتے ہیں، ’’جس علاقے میں بندہ رہتا ہے تو یہ اس کا فرض بنتا ہے کہ وہ لوگوں کو فائدہ دیں۔ ہم بھی سال کے گیارہ مہینے خود کے لیے کماتے ہیں تو کیا ہوا اگر رمضان کے مہینے میں علاقے کے غریب لوگوں کو فائدہ دیں اور بغیر منافع لیے اشیا فروخت کریں۔‘‘

گرمیت نے رمضان کے شروع ہوتے ہی دکان پر نرخ نامہ لگایا تو دکان کا سیل بڑھ گئی کیونکہ ہر شے کی قیمت خرید ہی قیمت فروخت تھی۔

ضلع خیبر ایجنسی کے ڈپٹی کمشنر نے ہاتھ کے لکھے نرخ نامہ کو پینا فلیکس پر ” لکھ کر دکان پر لگا دیا حالانکہ گرمیت سنگھ کو حکومت کی طرف سے کوئی ریلیف یا پیکج نہیں ملا ہے اور وہ کہتے ہیں کہ نہ ہی ان کو حکومت سے ریلیف لینے کی کوئی ضرورت ہے۔