پشاور کے سرکاری اسپتالوں میں کورونا مریضوں کی گنجائش ختم

Share on facebook
Share on google
Share on twitter
Share on linkedin

خیبر پختونخوا میں کورونا کی تیسری لہر نے شدت اختیار کرلی ہے اور صوبائی دارالحکومت کے بڑے سرکاری اسپتالوں میں مریضوں کے لئے مختص بیڈز کم پڑنے لگے ہیں۔

محکمہ صحت خیبر پختونخوا کی رپورٹ کے مطابق پشاور سمیت خیبر پختونخوا کے 5 اضلاع مردان، سوات، نوشہرہ، کوہاٹ اور صوابی میں کورونا کے متاثرہ کیسز میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے۔

صوبے میں کورونا سے اموات کی شرح میں بھی اضافہ ہوا ہے۔

خیبر پختونخوا حکومت نے صوبے بھر میں مجموعی طور پر کورونا کے مریضوں کے لئے 3 ہزار 565 بیڈز اور 332 وینٹی لیٹرز مختص کئے ہیں جن میں سے مجموعی طور پر 1800 سے زائد بیڈز زیر استعمال ہیں۔

پشاور کے بڑے سرکاری اسپتال لیڈی ریڈنگ اور حیات آباد میڈیکل کمپلیکس میں کورونا کے مریضوں میں رفتہ رفتہ اضافہ ہورہا ہے جس کی وجہ سے یہ اسپتال طبی سہولیات کی فراہمی کے لئے شدید دباؤ کا شکار ہیں۔

لیڈی ریڈنگ اسپتال پشاور میں کورونا کے مریضوں کی تعداد بلند ترین سطح پر 422 تک پہنچ گئی ہے جبکہ پشاور کے بڑے سرکاری اسپتالوں میں کورونا کے مریضوں میں رفتہ رفتہ اضافہ ہورہا ہے۔

اسپتال میں کورونا کے مریضوں کے لئے 485 بیڈز مختص کئے گئے ہیں تاہم اب مریضوں میں تیزی سے اضافے کے باعث یہ بیڈز بھی کم پڑنے لگے ہیں، اس وقت اسپتال کے آئی سی یو میں 32 مریض داخل ہیں۔

حیات آباد میڈیکل کمپلیکس میں بھی کورونا کے مریضوں میں اضافہ ہونے کے بعد اب کورونا کے مریضوں کی تعداد 154 ہوگئی ہے جبکہ کورونا کے لئے اسپتال میں 178 بیڈز مختص کئے گئے ہیں۔

اسپتال کے 38 وینٹیلٹرز میں سے 28 پر کورونا کے مریض زیرعلاج ہیں۔

خیبر ٹیچنگ اسپتال میں کورونا مریضوں کے لیے مختص 106 بیڈز میں سے 102 پر مریض داخل ہیں، اس طرح اسپتال میں صرف 4 بیڈز خالی رہ گئے ہیں۔ اسپتال میں 25 مریض بائی پائپ اور ایک وینٹیلٹر پر ہے۔