خیبر پختونخوا : کالعدم تحریک لبیک کے دفاتر سیل

Share on facebook
Share on google
Share on twitter
Share on linkedin

حکومت نے کالعدم تحریک لبیک کو جاری کئے گئے تمام اسلحہ لائسنس منسوخ کرنے، بینک اکاؤنٹس منجمد کرنے اور رہنماوں کے نام فورتھ شیڈول میں ڈالنے کا عمل شروع کردیا۔

محکمہ داخلہ پنجاب نے صوبہ بھر میں تعینات ڈپٹی کمشنرز کو ہدایات جاری کر دیں جبکہ پولیس اور تمام ڈپٹی کمشنرز سے فہرستیں بھی طلب کر لیں۔

ادھر تھانہ نواں کوٹ پر حملے، ڈی ایس پی اور پولیس اہلکاروں کو اغوا کرنے والے ملزمان کے خلاف دہشت گردی، اغواء سمیت دیگر دفعات کے تحت مقدمہ درج کرلیا گیا۔

پولیس اہلکار اقبال کی مدعیت میں درج  مقدمہ میں انس رضوی ولد خادم رضوی سمیت 23 نامزد اور سینکڑوں نامعلوم ملزمان کو شامل کیا گیا ہے۔

مقدمہ کے مطابق مظاہرین نے تھانے کا گیٹ توڑ کر حملہ کیا اور تھانے کے اندر پٹرول بمب پھینکے، جس سے موٹر سائیکلوں اور دیگر چیزوں کو آگ لگ گئیں۔

ڈی ایس پی عمر فاروق بلوچ کی جانب سے مظاہرین سے مذاکرات کرنے کی کوشش کی تو مظاہرین نے ان پر تشدد کیا اور ان کو اغوا کرکے اپنے مرکز لے گئے۔

آگ لگنے سے پولیس کی گاڑی اور متعدد موٹر سائیکلوں کو بھی آگ لگی۔ مظاہرین تھانے کا ریکارڈ بھی ساتھ لے گئے۔

پولیس کے مطابق فوٹیج کی مدد سے ملزمان کی شناخت کا عمل جاری ہے۔ اس کے علاوہ خیبر پختونخوا میں موجود ٹی ایل پی کے دفاتر بھی سیل کردیئے گئے ہیں۔