فرانسیسی سفیر کو ملک بدر کرنے کی قرارداد جمعہ تک موخر

Share on facebook
Share on google
Share on twitter
Share on linkedin

قومی اسمبلی اجلاس میں فرانس میں سرکاری سرپرستی میں توہین رسالت کیخلاف فرانسیسی سفیر کو ملک بدر کرنے کی قرارداد جمعہ تک موخر کر دی گئی۔

اسپیکر اسد قیصر کی زیر صدارت قومی اسمبلی اجلاس ہوا, جس میں توہین رسالت کے معاملے پر فرانسیسی سفیر کو ملک بدر کرنے کی قرارداد پیش کی گئی۔

قومی اسمبلی اجلاس شروع ہوا تو وزیر پارلیمانی امور علی محمد خان نے معمول کا ایجنڈا موخر کرنیکی تحریک پیش کی، بعد ازاں پی ٹی آئی رکن امجد خان نیازی نے فرانسیسی سفیر کی ملک بدری کے بارے میں قرارداد پیش کی۔

اجلاس میں کہا گیا کہ فرانسیسی میگزین کی جانب سے پہلی بار 2015ء میں گستاخانہ خاکے شائع کئے گئے، ایک بار پھر عالمی سطح پر مذہبی ہم آہنگی اور امن کو ٹھیس پہنچانے کی کوشش کی گئی.

انہوں نے کہا کہ یہ ایوان متنازع فرانسیسی میگزین چارلی ہیبڈو کی جانب سے توہین آمیز خاکوں کی اشاعت کی مذمت کرتا ہے، خاکے شائع کرنے پر پوری دنیا کے مسلمانوں نے شدید غم و غصے کے اظہار کیا۔

قرارداد کی فوراً بعد اپوزیشن ارکان اپنی نشستوں پر کھڑے ہوگئے، بات کا موقع نہ ملنے پر شاہد خاقان عباسی اسپیکر ڈائس پر پہنچ گئے.

شاہد خاقان نے اپنے خطاب میں کہا کہ تحفظ ناموس رسالت پر کوئی دو رائے نہیں مگر یہ قرارداد ناکافی ہے.

انہوں نے کہا کہ قرارداد میں فرانسیسی سفیر کو ملک بدر کرنے کیلئے پارلیمنٹ سے رائے مانگتے ہوئے کہا گیا کہ فرانسیسی سفیر کو کیوں نہ ملک بدر کیا جائے اور اس معاملے پر بحث کی جائے۔

قرارداد میں مذہبی معاملات پر احتجاج کیلئے ملک کے مختلف مقامات پر جگہ فراہم کرنے کی بھی تجویز پیش کرتے ہوئے کہا گیا کہ سڑکوں کی بندش کے بجائے احتجاج کیلئے مخصوص مقامات کا تعین کیا جائے۔

قرارداد میں کہا گیا کہ تمام مسلم ممالک سے اس معاملے پر سیر حاصل بات کی جائے اور تمام یورپین ممالک بالعموم اور فرانس کو بالخصوص معاملہ کی سنگینی سے آگاہ کیا جائے۔

وزیر پارلیمانی امور علی محمد خان نے معاملے پر پارلیمنٹ کی کمیٹی بنانے کی تحریک بھی پیش کی۔

ایوان نے خصوصی کمیٹی بنانے کی تحریک منظور کرلی۔ علی محمد خان نے کہا کہ یہ قرارداد پرائیویٹ ممبر کی طرف سے آئی ہے اور حکومت اس پر کوئی دعویدار نہیں۔

پیپلزپارٹی کے ارکان قومی اسمبلی کے اجلاس میں شریک نہیں ہوئے۔ مسلم لیگ نون کے 34 اور جے یو آئی (ف) کے 7 ارکان اور جماعت اسلامی کے ایک رکن اجلاس میں شریک ہوئے۔

دوران اجلاس شاہد خاقان عباسی اور اسپیکر قومی اسمبلی میں تلخ کلامی ہوئی۔ شاہد خاقان عباسی اسپیکر روسٹرم کے سامنے پہنچ گئے۔

شاہد خاقان عباسی نے اسپیکر سے کہا کہ آپ کو شرم نہیں آتی، میں آپ کو جوتا ماروں گا۔ اسپیکر نے کہا کہ میں بھی وہ کام کروں گا، آپ اپنی حد میں رہیں۔

ایوان میں پیر نور الحق قادری کی تقریر کے دوران بھی اپوزیشن نے احتجاج کیا اور مسلم لیگ نون کے ارکان نے شدید نعرہ بازی کی۔

اسپیکر نے کہا کہ قرارداد پیش ہوئی ہے منظور نہیں ہوئی، قرارداد پر تمام جماعتیں مشاورت کر لیں اور متفقہ قرارداد لائیں۔ قومی اسمبلی اجلاس جمعہ 11 بجے تک ملتوی کر دیا گیا۔