ضلع خیبر کا واحد فٹبال گراؤنڈ 3 سال گزرنے کے باوجود بھی نہ بن سکا

Share on facebook
Share on google
Share on twitter
Share on linkedin

ضلع خیبرکے تحصیل لنڈی کوتل میں ہائی سکول فٹبال گراؤنڈ 3 سال گزرنے کے باوجود بھی نہ بن سکا۔ مقامی کھلاڑیوں کے مطابق اس سپورٹس گراونڈ  پر 2017ء سے کام شروع کیا گیا ہے اور ٹھیکیدار کی جانب سے کہا گیا تھا کہ اس کو 2 سال میں مکمل کرلیا جائے گا تاہم ابھی تک مکمل نہ ہوسکا۔

کھلاڑیوں نے الزام لگایا ہے محکمہ سی اینڈ ڈبلیو کے اہلکار اور ٹھیکیدار آٌپس میں ملے ہوئے ہیں جنہوں نے اس فٹبال گراؤنڈ میں بہت کرپشن کی ہے۔

جنرل سیکرٹری بیڈ منٹن ایسوسی ایشن ضلع خیبر اور سابقہ فٹبال کے کھلاڑی اختر رسول نے ٹی این این کے ساتھ بات چیت کے دوران کہا کہ اس گراؤنڈ کے لیے 2 کروڑ47 لاکھ روپے منظور کئے گئے ہیں جس میں ٹھیکیدار کے مطابق وہ اب تک ایک کروڑ 5 لاکھ روپے خرچ کرچکا ہے لیکن کام تاحال 30 فیصد سے بھی کم ہوا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ گراؤنڈ پرنہ صرف کام سست روی سے جاری ہے بلکہ اس میں استعمال ہونے والا میٹریل بھی ناقص ہے۔

انہوں نے کہا کہ تحصیل لنڈی کوتل میں یہ واحد فٹبال گراؤنڈ ہے جو 1982 میں بنایاگیا تھا لیکن اب اس کے اطراف تبدیل کرنے کی غرض سے اس گراؤنڈ پرتعمیراتی کام جاری ہے۔ اختر رسول نے بتایا کہ گراونڈ کی بندش کی وجہ سے نہ صرف فٹبال کھلاڑیوں کا وقت ضائع ہورہا ہے بلکہ لنڈی کوتل میں موجود کھلاڑی اور باقی نوجوان گراؤنڈ نہ ہونے کی وجہ آئس سمیت مختلف نشوں کا بھی شکار ہورہے ہیں جوکہ لمحہ فکریہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں کئی بار احتجاج بھی کئے ہیں تاہم کوئی شنوائی نہیں ہوئی۔

مقامی لوگوں کے مطابق ٹھیکیدار کی کرپشن اور گراؤنڈ پرکام تیز کرنے کے حوالے ڈپٹی کمشنر اور اسسٹنٹ کمشنرکو 20 درخواستیں بھی بھیجی ہیں تاہم ابھی تک ان درخواستوں پرعمل درآمد نہ ہوسکا۔ مقامی کھلاڑیوں اور نوجوانوں نے حکومت اور محکمہ کھیل سے درخواست کی ہے کہ گراؤنڈ پرتعمیراتی کام جلد ازجلد مکمل کیا جائے اور ٹھیکیدار اور باقی لوگ جو اس گراؤنڈ کی کرپشن میں ملوث ہیں انکے خلاف کاروائی کی جائے۔

انہوں نے دھمکی دی ہے کہ اگر انکے مطالبات نہ مانے گئے تو احتجاج کا دائرہ کار وسیع کردیں گے۔

اس حوالے سے ضلع خیبرکے سپورٹس منیجر راحید گل کا کہنا تھا کہ انہوں نے اس سپورٹس گراؤنڈ کو بنانے کو کے لیے 30 جون 2019 کا تاریخ دیا تھا تاہم ابھی تک نہیں بن سکا۔

انہوں نے کہا کہ کچھ عرصہ پہلے ٹھیکیدار اور سی اینڈ ڈبلیو کے مابین کچھ اختلافات بھی سامنے آئے تھے جسکی وجہ سے ٹھیکیدار کو بھی تبدیل کردیا گیا تھا۔ سپورٹس منیجر نے تسلیم کیا کہ جو میٹریل گراؤنڈ کے تعمیراتی کام میں استعمال ہوا ہے اس میں مسائل ہیں تاہم جہاں تک کرپشن کی بات ہے کمیٹی اور تحقیقات کے بغیر اس حوالے سے کچھ نہیں کہا جاسکتا۔

انہوں نے یہ بھی کہا متعلقہ ٹھیکیدار سے کہ چکے ہیں کہ گراؤنڈ پر جلد ازجلد کام مکمل کیا جائے تاکہ کھلاڑیوں کو کھیلنے اور پریکٹس کا موقع مل سکیں۔