کپاس کی مجموعی پیداوار ملکی تاریخ کی کم ترین سطح پر آگئی

Share on facebook
Share on pinterest
Share on twitter
Share on linkedin
Share on whatsapp

فیڈرل کمیٹی آن ایگری کلچر (ایف سی اے) کی جانب سے کپاس کی مجموعی پیداوار کا ہدف حاصل نہ ہونے کے باوجود سال 2020-21ء کے لیے پیداواری ہدف ایک بار پھر ایک کروڑ 5 لاکھ گانٹھ مقرر کر دیا ہے۔

کاٹن جننگ فورم کے چیئرمین احسان الحق نے موجودہ حالات میں (ایف سی اے) کے مقرر کردہ پیداواری ہدف کو ناممکن قرار دے دیا ہے۔

اس ہدف سے ٹیکسٹائل ملز کو اپنی سالانہ حکمت عملی ترتیب دینے میں مشکلات کا سامنا ہوگا۔

ان کا کہنا ہے کہ گزشتہ 8 سال کے دوران پاکستان میں کپاس کی مجموعی ملکی پیداوار ہمیشہ ایک کروڑ گانٹھ سے کم رہی ہے، جبکہ رواں سال کپاس کی مجموعی قومی پیداوار ملکی تاریخ کی کم ترین سطح 56 لاکھ 50 ہزار گانٹھ تک محدود رہی۔

انہوں نے بتایا کہ ایف سی اے زمینی حقائق کو نظرانداز کرتے ہوئے ہر سال کپاس کا مجموعی پیداواری ہدف ایک کروڑ گانٹھوں سے زائد مقرر کر رہی ہے اور اس ہدف کو کبھی حاصل نہیں کیا گیا۔

اس غیر حقیقت پسندانہ پیداوری ہدف کی وجہ سے ٹیکسٹائل ملز اور برآمد کنندگان کو اندرون ملک روئی کی دست یابی اور غلط اندازوں کے خدشات کے پیش نظر عین موقع پر مہنگے داموں روئی درآمد کرنا پڑے گی۔