خیبر: اکاخیل اور بیزوٹ کے درمیان 40 سالہ پرانا تنازعہ ختم

Share on facebook
Share on pinterest
Share on twitter
Share on linkedin
Share on whatsapp

ضلع خیبر کی قوم اکاخیل اور اورکزئی قوم بیزوٹ کے درمیان 40 سال سے علاقہ تیراہ شڈلہ پر تنازعہ آج ختم، حد بندی (برید) مقرر کر دی گئی۔

نمائندہ ٹرائبل پریس کے مطابق آج قوم اکاخیل اور قوم بزوٹ اورکزئی کا مشترکہ جرگہ علاقہ شڈلہ تیراہ اکاخیل میں منعقد کیا گیا جس میں دونوں طرف سے سینکڑوں مشران نے شرکت کی۔

اکاخیل قومی کونسل کے سربراہ حاجی خیال زمان نے باقاعدہ طور علاقہ شڈلہ تنازعہ ختم کرنے کا اعلان کیا جس کی بیزوٹ مشران نے تائید کی اور باقاعدہ حد بندی ( برید) مقرر کی گئی۔

یاد رہے کہ یہ تنازعہ 40 برس سے چلا آ رہا تھا جس میں دونوں طرف سے متعدد افراد لقمہ اجل بنے ہیں۔

یہ بھی یاد رہے کہ مئی 2020 میں اورکزئی اور اکاخیل قبیلوں کے درمیان اراضی تنازعہ حل کرنے کے لیے سابق ایم این اے الحاج شاہ جی گل افریدی کی سربراہی میں کوکی خیل قومی مشران کا جرگہ کوہاٹ میں ہوا تھہ.

یاد رہے کہ شڈلہ اراضی تنازعے پر اس سے ایک ہفتے اکاخیل قبیلے کے دو افراد فائرنگ سے جاں بحق ہو گئے تھے۔

تاہم اکاخیل اور اورکزئی کے بیزوٹ قبیلے کے درمیان فائر بندی (تیگہ) کیلئے ہونے والا یہ مصالحتی جرگہ ناکام ہو گیا تھا.

ذرائع کے مطابق قبیلہ اکاخیل نے موقف اختیار کیا تھا کہ جب تک ایف آئی آر میں نامزد ملزمان کو گرفتار نہیں کیا جاتا اس وقت تک تیگہ نہیں ہو گا۔