شانگلہ : 16 مقتولین کی نمازِ جنازہ ادا جبکہ لواحقین کے مطالبات منظور

Share on facebook
Share on pinterest
Share on twitter
Share on linkedin
Share on whatsapp

شانگلہ میں کوہاٹ کے علاقے تور چپر سے اجتماعی قبر سے نکالے گئے 16 مقتولین کی نماز جنازہ ادا کر دی گئی ہے۔

ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) ریسکیو خطیر احمد کا اس بابت کہنا تھا کہ اجتماعی قبر سے نکالی گئی میتیں  شانگلہ پہنچا دی گئی تھیں۔

خیبرپختونخواحکومت کے احکامات پر ریسکیو 1122نے 8 ایمبولینسز فراہم کی تھیں۔

گزشتہ روز کوہاٹ کے علاقے تور چپر جواکی میں 16 لاپتہ ہونے والے مزدوروں کی لاشوں کی باقیات برآمد ہوئی تھیں۔ لاشوں کی باقیات ایک اجتماعی قبر سے 10 سال بعد ملی تھیں۔

ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر کوہاٹ نے کہا تھا کہ قتل کیے گئے افراد کی اجتماعی تدفین کی گئی تھی۔ ان کے مطابق 29 ستمبر 2011 میں شانگلہ کے 16 مزدور لاپتہ ہو گئے تھے اور ممکنہ طور پر یہ لاشیں انہی مزدوروں کی ہیں، تاہم لاشوں کی باقیات کا ڈی این اے ٹیسٹ کیا جائے گا۔

ذرائع کے مطابق اہل علاقہ کی اطلاع پر ریسکیو اہلکار علاقے میں پہنچے اور 16 افراد کی باقیات نکالیں۔ اہل علاقہ کے مطابق یہ افراد 2011 میں لاپتہ ہوئے تھے۔

دریں اثنا وزیر اعلی خیبر پختونخوا محمود خان نے کمشنر کوہاٹ اور ڈی آئی جی کوہاٹ کو واقعے کی انکوائری کر کے رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی ہے۔

وزیر اعلی خیبر پختونخوا نے مزدوروں کے ورثا کے لیے دس، دس لاکھ روپے مالی امداد کا بھی اعلان کر دیا۔

حکومت نے لواحقین کے 10 مطالبات منظور 

درہ آدم خیل کے علاقے سے برآمد ہونے والی 16 لاشوں کے معاملے پر لواحقین اور جرگہ عمائدین کے درمیان مذاکرات کامیاب ہو گئے، لواحقین کے 10مطالبات منظور کر لئے گئے۔

گزشتہ روز 9 اپریل کو درہ آدم خیل کے علاقے سے 16 افراد کی لاشیں برآمد کی گئی تھیں۔

پولیس کے مطابق تمام افراد سال 2011 سے لاپتہ تھے، لاشیں کوہاٹ کے علاقے جموں کی پہاڑ کی چوٹی سے برآمد کی گئی تھیں۔ تمام لاشوں کو ایک اجتماعی قبر میں دفن کیا گیا تھا۔

لاشیں ملنے کی اطلاع منظر عام پر آنے کے بعد لواحقین اور اہل علاقہ کی بڑی تعداد بھی جائے وقوعہ پر پہنچ گئی اور احتجاج کا سلسلہ شروع ہوا۔

لواحقین کی جانب سے جرگہ عمائدین کے سامنے 10 مطالبات رکھے گئے۔ صوبائی مشیر ضیا اللہ بنگش بھی لواحقین سے مذاکرات کیلئے جمعہ کی رات شانگلہ پہنچے۔

رات گئے تک جاری رہنے والے مذاکرات بعد ازاں 10اپریل بروز ہفتہ کامیاب ہوئے۔

مشیر سائنس و انفارمیشن ٹیکنالوجی خیبر پختونخوا ضیا اللہ بنگش کی جانب سے بھی لواحقین اور جرگہ عمائدین کے مابین مذاکرات کامیاب ہونے کی تصدیق کی گئی۔

مذاکرات میں (ن) لیگی رہنما امیر مقام، سابق ایم پی اے ارشاد خان اور پاکستان تحریک انصاف کے دیگر رہنما بھی موجود تھے۔

مذاکرات کامیاب ہونے کے بعد مظاہرین نے کوہاٹ روڈ پر جاری دھرنا ختم کرکے روڈ کھول دی۔

جرگہ عمائدین کا کہنا تھا کہ صوبائی حکومت جاں بحق افراد کے لواحقین کو 26 لاکھ روپے فی کس معاوضہ دے گی، جب کہ 16 افراد کے خاندانوں میں ایک ایک شخص کو سرکاری نوکری بھی دی جائے گی۔

مطالبات میں مزدوروں کی سکیورٹی اور دیگر مسائل پر قانون سازی سے متعلق بھی اتفاق کیا گیا۔ واقعہ کی جوڈیشل انکوائری اور کمیٹی کا بھی اعلان کر دیا گیا ہے۔