محرم الحرام کے لئے سکیورٹی پلان تشکیل، موبائل فون سروس بند رکھنے کی سفارش

Share on facebook
Share on google
Share on twitter
Share on linkedin

کیپٹل سٹی پولیس پشاور نے محرم الحرام کےلئے سکیورٹی پلان کو حتمی شکل دے دی ہے جس کے تحت ضلع بھر کی امام بارگاہوں اور اطراف میں 10 ہزار کے قریب پولیس افسران و اہلکار سکیورٹی کے فرائض سر انجام دیں گے۔

چیف کیپٹل پولیس پشاور محمد کریم خان کے دفتر سے جاری ہونے والے اعلامیہ کے مطابق محرم الحرام کے دوران 10 ہزار کے قریب پولیس  اہلکاروں کو تعینات کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، اسی طرح جلوسوں کے راستوں کی چار مرتبہ بم ڈسپوزل یونٹ اور سنیفر ڈاگز کے ذریعے سویپنگ کی جائے گی جبکہ سی سی ٹی وی کیمروں کے ذریعے تمام راستوں، جلوسوں اور دیگر اہم و حساس مقامات کی نگرانی کے ساتھ ساتھ مشتبہ افراد پر بھی کڑی نظر رکھی جائے گی، تمام جلوسوں کو تھری لئیر سکیورٹی فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ جلوسوں کی گزرگاہوں میں موجود تمام اونچی عمارتوں پر ماہر نشانہ باز اہلکاروں کے ساتھ ساتھ گن پوسٹ اور پلگنگ پوائنٹس پر بھی اہلکار تعینات کئے جائیں گے۔

محرم کے دوران شہر کی سکیورٹی کو فول پروف بنانے کے لئے بکتر بند گاڑیاں بھی حساس مقامات پر موجود رہیں گی جبکہ ایس سی یو، آر آر ایف، اے ٹی ایس، لیڈیز پولیس، بی ڈی یو، سٹی پٹرولنگ فورس کے جوانوں کے ساتھ ساتھ ڈی ایس بی کے جوان بھی سکیورٹی کو موثر بنانے کے لئے اپنے فرائض سر انجام دیں گے، محرم کے دوران ن ٹریفک کو رواں دواں رکھنے کے لئے اہم شاہراہوں اور سڑکوں پر ٹریفک اہلکار بھی تعینات رہیں گے۔

شہر کے تمام داخلی و خارجی راستوں پر چیکنگ مزید سخت کر دی گئی ہے، اندرون شہر کی سکیورٹی کو مزید موثر بنانے کے لئے محرم کے آخری ایام میں تمام گاڑیوں کے داخلہ پر مکمل پابندی ہو گی جبکہ شہر بھر کے سرائیوں، گیسٹ ہاوسز اور ہوٹلز میں رہائش پذیر افراد کا ڈیٹا بھی چیک کرنے کا عمل جاری ہے۔

اسی طرح محرم الحرام کے دوران جلوسوں، امام بارگاہوں اور حساس مقامات سمیت شہر بھر کی مانیٹرنگ کے لئے جدید سہولیات سے آراستہ سپریم کمانڈ پوسٹ قائم کر دی گئی ہے جس میں بی ڈی یو، لیڈیز پولیس، ڈی ایس بی، ایمبولینس، ریسکیو 1122، ضلعی انتظامیہ کے اہلکار اوردیگر اداروں سے تعلق رکھنے والے افسران و اہلکار ہمہ وقت موجود رہیں گے۔

حکام کے مطابق گزشتہ سال کی طرح امسال بھی کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچنے کی خاطر نویں اور دسویں محرم الحرام کے روز شہر میں موبائل سروس بند کرنے کی سفارش کی گئی ہے جس کے لئے متعلقہ حکام کو مراسلہ ارسال کر دیا گیا ہے۔

پشاور میں ڈبل سواری، رینٹ اے کار پر پابندی، مہاجرین کیمپوں تک محدود

پشاور کی ضلعی انتظامیہ نے محرم الحرام کے دوران امن و امان کی فضاء کو برقرار رکھنے کےلئے آج سے 13 محرم تک ضلع بھر میں دفعہ 144 نافذ کرتے ہوئے وال چاکنگ اور اشتعال انگیز تقاریر کرنے سمیت ڈبل سواری پر پابندی عائد کردی ہے۔

ڈپٹی کمشنر پشاور محمد علی اصغر کی جانب سے جاری حکمنامے کے مطابق دفعہ 144 پشاور پولیس کی جانب سے محرم الحرام کے دوران نقص امن کا اندیشہ ظاہر کئے جانے کے پیش نظر نافذ کیا گیا ہے۔

حکمنامے کے مطابق یکم محرم سے 13 محرم الحرام تک دفعہ 144 نافذ کردی گئی ہے جس کے تحت ضلع بھر میں وال چاکنگ، اشتعال انگیز تقاریر، قابل اعتراض پمفلٹس و پوسٹر چھاپنے/ تقسیم کرنے، موٹرسائیکل کی ڈبل سواری، کالے شیشوں اور اسلحے کی نمائش و ساتھ لے جانے پر پابندی عائد ہوگی۔

اسی طرح افغام مہاجرین کے اپنے کیمپوں سے باہر نکلنے پر بھی پابندی ہوگی۔ ان 13 دنوں کے دوران نفرت انگیز تقاریر کرنے، ماتمی جلوسوں کی گزرگاہوں میں آنے والے دکانوں کے سامنے کھڑا ہونے، آتس گیز مواد کی خرید و فروخت اور رینٹ اے کار کے کاروبار پر بھی پابندی عائد ہوگی۔