دوتانی قبایل کے درمیان زمینی تنازعہ شدت اختیار، حکام سے فوری نوٹس کا مطالبہ

Share on facebook
Share on google
Share on twitter
Share on linkedin
ایف ار درازندہ میں دوتانی قبایل کے درمیان زمینی تنازعہ شدت اختیارکر گیا. کوکنڑی قبایل کا لشکر مورچہ زن ہونے کے بعد شدید نقصان کا اندیشہ،  وزیر اعلی خیبر پختون خواہ. کور کمانڈر اور ایی جی پولیس سے فوری نوٹس کا مطالبہ.
 
گزشتہ روز دوتانی قبایل کے زیلی شاخ آدم خیل کے مشران جس میں ملک فتح خان ملک بسم اللہ خان ــ ملک ادم شاہ اور ملک محمد جان نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہویے کہا کہ گزشتہ ایک سال سے ہمارے دو قبیلوں کے درمیان زمین کا تنازعہ چل رہا ہے جس بارے ہم نے کیی بار جرگے کیے اور جرگوں کے بعد اپنے مسلے سے تمام اعلی سرکاری افسران جس میں کمشنر ڈیرہ ـڈی سی ڈیرہ. ڈی پی او ڈیرہ اور اسٹیشن کمانڈر ڈیرہ اسماعیل خان کو بار بار درخواست دی گی. اور ان افسران سے کیی بار جرگے بھی کیے مگرہمارے مسلے کے حل میں کویی بھی افسر دلچسپی نہیں لیتا بلکہ ٹال مٹول سے کام لیا جاتا ہے.
 
ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ ایک ہفتہ سے ہمارے مخالف فریق سینکڑوں کی تعداد میں مورچھہ زن ہو چکے ہے اور گزشتہ ایک ہفتہ سے ہمارے گھروں پر بھاری اسلحہ سے فایرنگ کر رہے ہیں جس کیوجہ سے لاکھوں روپے کا نقصان ہو چکا ہے اور کیی جانور بھی ہلاک کیے گیے ہیں اور ہمارے معصوم بچے بوڑھے خواتین گھروں میں محصور ہو چکے ہیں.
 
ان مشران کا کہنا تھا کہ کوکنڑی قبایل کے پاس جدید اسلحہ موجود ہے اور یہ قبیلہ بدمعاشی اور دشمنیوں کیوجہ سے نفرت سے بھرے ہوہے ہے ان کا کہنا تھا کہ گنڈاپور اور وزیر قوم سے اس قبیلہ نے دشمنی کی تھی جسکیوجہ سے اج دوتانی قبیلہ مشکلات سے دو چار ہے.