قبائلی اضلاع میں بچھی بارودی سرنگیں

Share on facebook
Share on pinterest
Share on twitter
Share on linkedin
Share on whatsapp

خیبر پختونخوا اور سابقہ فاٹا میں دہشت گردی سے سیکڑوں افراداپنے جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں ۔یہ دہشت گردی کبھی طالبان کی طرف سے حملوں کی صورت میں ہوئی تو کبھی ڈرون حملوں کی صورت میں ہوئی ۔

ریاست پاکستان پچھلی دو دھائیوں سے جس عذاب کی شکار رہی ہے ان میں دہشت گردی سرفہرست ہے ۔ لیکن ایک خاص قسم دہشت گردی جس سے سیکڑوں افرد لقمہ اجل بنے وہ بارودی سرنگوں سے ہونے والی دہشت گردی ہے ۔

قبائلی علاقوں میں دہشتگر د تنظیموں کی جانب سے بچھائی گئی بارودی سرنگوں سے اب تک سیکڑوں افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں جن میں اکثر یت پاک فوج کے جوانوں ،ایف سی اہلکاروں اور پولیس جوانوں کی ہے ۔جن کو بارودی سرنگوں کی وجہ شہادت نصیب ہوئی۔

در اصل جب پاک فوج نے دھشتگردوں کے خلاف بلا امتیاز اپریشن شروع کیا تو دھشتگردوں نے پسپائی کے دوران پاک فوج کی پیش قدمی روکھنے کیلئے اپنے ٹھکانوں کے اردگرد اورراستوں میں انتہائی مکاری کے ساتھ زمین کھود کر اس میں بموں کی پوری فضل کاشت کر دی ، یہ ایسے بم ہیں جو زائد المیعاد نہیں ہوتے اور جن کے اوپر پاوں پڑتے ہی پھٹ جا تے ہیں ۔

اسکے علاوہ آئے دن سیلابی ریلے جنگ زدہ افغانستان سے بارودی سرنگیں بہا کر بارڈر سے ملحقہ قبائلی علاقے میں لے آتے ہیں ۔

بارودی سرنگ چھپا ہوا دشمن ہے جو بھیڑ چرانے والے چرواہے کو بھی ماردیتا ہے چارہ لانے والی بڑھیا کو بھی اڑا دیتا ہے سکول جانے والے بچوں اور بچیوں کو بھی ماردیتا ہے اور گھر سے باہر نکل کر چہل قدمی کرنے والے عام شہری کو بھی نہیں بخشتا ۔

دہشت گردی پر قا بو پا نے کے بعد پاک فوج کے جری افسر اور جوانوں نے قبائلی اضلاع کے انتہائی دشوار گزار پہاڑوں، جنگلوں، پرپیچ راستوں، خطرناک ندی نالوں میں موت سے کھیل کر ان بارودی سرنگوں کو ناکارہ بنانے کیلئے اسکیننگ کا آغاز کیا۔

پاک افغان بارڈر سے ملحقہ قبائلی اضلاع کے 164٫69 مربع کلو میٹر علاقے میں بارودی سرنگوں کی صفائی کیلئے پاک آرمی نے بمب ڈسپوزل سکواڈ کی 84 ٹیمیں تشکیل دیں۔جنہوں نے اب تک مجموعی طور پر 48274 بارودی سرنگیں ناکارہ بنائی ہیں۔

بارودی سرنگوں کے لحاظ سے سب سے زیادہ حساس علاقے ضلع جنوبی وزیرستان میں آئی ای ڈیز کو ناکارہ بنانےکیلئے 44 ٹیمیں کام کر رہی ہیں جنہوں نے علاقے سے اب تک 20897 بارودی موادکو ناکارہ بنا یا ہے ۔ ضلع شمالی وزیرستان میں 14 ٹیمیں کام کر رہی ہیں جنہوں نے اب تک 12475 آئی ای ڈیز کو ناکارہ بنایا۔

سات تحصیلوں پر مشتمل قبائلی ضلع باجوڑکا وہ تمام علاقہ جہاں پر آئی ای ڈیز کے پھٹنے کا خطرہ تھا اس کو 100 فیصد تک صاف کیا جا چکا ہے

باجوڑ کے جنوب میں واقع ضلع مہمند میں 2401 آئی ای ڈیز کو صاف کر کے 93 فیصد علاقہ کلئیر کر دیا گیا ہے۔ اسی طرح ضلع خیبر کے 5381 آئی ای ڈیز کا صفایا کر کے 63 فیصد حصے کو قبائلی عوام کے لئے کھول دیا

ضلع اورکزئی میں بھی 94 فیصد کام مکمل کیا جا چکا ہے جس میں 1753 بموں کو ناکارہ کیا گیاارض پاکستان کی جنت نظیر وادی اور اسٹرٹیجک و جغرافیائی اہمیت کا حامل انتہائی اہم ضلع کرم میں اب تک 4481 آئی ای ڈیز کو ختم کیا گیاہے۔

بارودی مواد کی صفائی کے علاوہ پاک فوج ان قبائلی اضلاع میں بارودی مواد کی نشاندہی اور بچاو سے متعلق شعور و اگاہی کے مہم بھی چلاتی ہے اور ان بارودی مواد کا نشانہ بننے والے متاثرین کے علاج اور بحالی کیلئے بھی پاک فوج ضروری اقدامات اٹھا رہی ہے۔

متاثریں کو معاونت فراہم کرنے اور انہیں چلنے پھرنے کے قابل بنانے اور مزید پیچیدگیوں سے محفوظ رہنے کے قابل بنانے کیلئے ہر قبائلی اضلاع میں فزیوتھیراپی مراکز قائم کیے جا رہے ہیں۔

اسکے علاوہ وقتا فوقتا افواج پاکستان کی جانب سے معذور اور مستحق افراد میں وہیل چیئرز، بیساکھیاں، سلائی مشینیں کے علاوہ مالی امداد تقسیم کیجاتی ہیں حالیہ کرونا بحران میں بھی پاک سیکورٹی فورسسز نے دکھی انسانیت کی خدمت کیلئے قبائلی اضلاع کے معزور افراد کو باقائدگی سے انکے گھروں کی دہلیز پر راشن پہنچایا۔

اسکے علاوہ معذور قبائلی طلباء کیلئے پاک فوج نے اپنے تعلیمی اداروں میں 10 فیصد تعلیمی کوٹہ مختص کیا ہے۔جہاں بارودی سرنگوں سے متاثرہ بچے معیاری تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔

قبائلی اضلاع میں دہشت گردوں کے ہاتھوں بچھائی گئی بارودی سرنگیں صاف کرنے کیلئے پاک فوج کے جری جوان دن رات کام کررہے ہیں اور عنقریب تمام اضلاع بارودی سرنگوں سے کلئیر ہوجائنگے ۔