پہاڑی علاقوں میں لکڑیاں جلانے پر پاور سیکرٹری کو نوٹس

Share on facebook
Share on google
Share on twitter
Share on linkedin

پہاڑی علاقوں میں ایندھن کے لیے لکڑیاں جلانے کی مجبوری پر پشاور ہائی کورٹ نے پاور سیکرٹری کو نوٹس جاری کر دیا۔

تفصیلات کے مطابق آج پشاور ہائیکورٹ میں خیبر پختونخوا کے شمالی علاقہ جات میں ٹمبر مافیا کی جانب سے درختوں کی کٹائی کے خلاف دائر درخواستوں پر سماعت ہوئی، جس میں چیف جسٹس نے محکمہ جنگلات کی سرزنش کی کہ محکمہ جنگلات کی حفاظت کر رہا ہے یا اسے ختم کر رہا ہے۔

سیکرٹری جنگلات نے عدالت کو بتایا کہ محکمہ جنگلات کی حفاظت کر رہا ہے اور نئے درخت بھی لگائے جا رہے ہیں۔ چیف جسٹس قیصر رشید خان نے ریمارکس دیے، بے شک آپ نئے درخت لگائیں، یہ اچھی بات ہے لیکن صدیوں پرانے درختوں کی بھی حفاظت کریں، جنگلات ہمارے آنے والے مستقبل کی امانت ہے ان کی حفاظت یقینی بنائیں۔

چیف جسٹس نے کہا کہ سیاحتی مقام مالم جبہ، گبین جبہ اور کمرات میں بھی ایسی سرگرمیاں شروع کی گئی ہیں جن سے وہاں جنگلات کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے، سیاحتی مقامات پر سرگرمیاں کریں لیکن وہاں جنگلات کو ختم مت کریں۔

سیکرٹری جنگلات نے عدالت کو بتایا کہ پہاڑی علاقوں میں سردیوں کے موسم میں لوگ لکڑیاں جلاتے ہیں اس کے لیے محکمہ جنگلات وہاں لوگوں کو مفت پاپولر درخت دے رہے ہیں، جسے لوگ اپنے کھیتوں میں کاشت کرتے ہیں اور پھر ان درختوں کو ایندھن کے طور پر جلانے کے لیے استعمال کرتے ہیں، اس طرح وہاں جنگلات بھی محفوظ رہتے ہیں۔

عدالت میں موجود چیف کنزرویٹر نے کہا کہ ان علاقوں کے عوام کو اگر متبادل فیول فراہم کیا جائے تو اس سے جنگلات مزید محفوظ ہو سکیں گے، جس پر عدالت نے سیکریٹری پاور اینڈ انرجی کو نوٹس جاری کرتے ہوئے آئندہ سماعت پر طلب کر لیا۔

چیف جسٹس نے سیکریٹری جنگلات اور چیف کنزرویٹر جنگلات کو ہدایت کی کہ درختوں کی حفاظت اور جنگلات کی بہتری کے لیے آپ اپنا کام کریں، کوئی رکارٹ ڈالے تو ہمیں درخواست دیں، ہم ان کے خلاف بھی کارروائی کریں گے۔

عدالت نے سیکریٹری جنگلات اور چیف کنزرویٹر کو خود مالم جبہ اور گبین جبہ کا دورے کر کے وہاں صورت حال دیکھ کر تفصیلی رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیتے ہوئے سماعت 30 مارچ تک ملتوی کر دی۔