ضلع مہمند کے رہائشیوں کا مہمند پریس کلب میں پریس کانفرنس

Share on facebook
Share on google
Share on twitter
Share on linkedin
مہمند ماڈل سکول غازی بیگ متاثرین کو فوری موجودہ ریٹ کے مطابق قیمت دی جائے۔ سکول میں کلاسفور ملازمین بھی وعدے کے مطابق زمین مالکان میں سے ہی بھرتی کی جائے۔ 800 کنال قیمتی زمین سستے ریٹ میں دی تھی۔ انتظامیہ وعدے پورے کرے، ہمیں احتجاج پر مجبور نہ کی جائے۔
 
ان خیالات کا اظہار غازی بیگ حلیمزئی ضلع مہمند کے رہائشیوں ملک علی حیدر، شیرزادہ، جہانگیر، گل صاحب خان و دیگر نے مہمند پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔
 
پریس کانفرنس میں کہا کہ 2004 ء میں سابقہ گورنر افتخار حسین شاہ نے غازی بیگ کے مقام پر کیڈٹ کالج کی منظوری دی تھی۔ جس کا باقاعدہ افتتاح بھی ہو چکا ہے۔
 
ہمارے ساتھ وعدہ کیا گیا تھا کہ اگر ہم نے دو ماہ کے اندر اندر زمین کی قیمت ادا نہ کی تو پھر جس وقت زمین پر تعمیراتی کام شروع ہوگا، اُس وقت کے مطابق یعنی اُس وقت موجودہ ریٹ کے مطابق آپ لوگوں کو زمینوں کی ادائیگی کی جائیگی۔
 
انہوں نے پریس کانفرنس میں کہا کہ ہم نے اس منصوبے کیلئے800 کنال زمین دی ہے مگر 2004 کے بجائے 2018 ء میں حکومت نے یہاں مہمند ماڈل سکول غازی بیگ کے نام سے ایک سکول قائم کیا۔ مگر ابھی تک ہم کو زمین کی ریٹ نہیں دی گئی ہے۔
 
انہوں نے مزید کہا ہم نے بار بار پاک فوج و اعلیٰ حکام کو اس سلسلے میں آگاہ کیا ہے۔ اور سکول بھی فوج کی کنسٹرکشن کمپنی نے تعمیر کیا۔ اب کلاسفور ملازمین کو بھی دوسرے علاقوں سے لا کر بھرتی کر رہے ہیں۔
 
انہوں نے کہا کہ ایک طرف ہمیں زمینوں کا ریٹ نہیں دیا گیا تو دوسری طرف کلاسفور ملازمین بھی دوسرے علاقوں سے بھرتی کئے جا رہے ہیں۔ جو کہ ہمارے ساتھ سراسر ظلم و نا انصافی ہے۔
 
انہوں نے کو ر کمانڈر، وزیر اعلیٰ خیبر پختونخواہ، گورنر، ڈی سی مہمند، کمانڈنٹ مہمند رائفلز سے پر زور اپیل کرتے ہیں کہ ہم غریب لوگ ہیں اور ہمارے مسئلے کو فوری طور پر حل کرے۔ اور ہمیں احتجاج پر مجبور نہ کیا جائے۔

مہمند ماڈل سکول غازی بیگ متاثرین کو فوری موجودہ ریٹ کے مطابق قیمت دی جائے۔ سکول میں کلاسفور ملازمین بھی وعدے کے مطابق زمین مالکان میں سے ہی بھرتی کی جائے۔ 800 کنال قیمتی زمین سستے ریٹ میں دی تھی۔ انتظامیہ وعدے پورے کرے، ہمیں احتجاج پر مجبور نہ کی جائے۔
 
ان خیالات کا اظہار غازی بیگ حلیمزئی ضلع مہمند کے رہائشیوں ملک علی حیدر، شیرزادہ، جہانگیر، گل صاحب خان و دیگر نے مہمند پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔
 
پریس کانفرنس میں کہا کہ 2004 ء میں سابقہ گورنر افتخار حسین شاہ نے غازی بیگ کے مقام پر کیڈٹ کالج کی منظوری دی تھی۔ جس کا باقاعدہ افتتاح بھی ہو چکا ہے۔
 
ہمارے ساتھ وعدہ کیا گیا تھا کہ اگر ہم نے دو ماہ کے اندر اندر زمین کی قیمت ادا نہ کی تو پھر جس وقت زمین پر تعمیراتی کام شروع ہوگا، اُس وقت کے مطابق یعنی اُس وقت موجودہ ریٹ کے مطابق آپ لوگوں کو زمینوں کی ادائیگی کی جائیگی۔
 
انہوں نے پریس کانفرنس میں کہا کہ ہم نے اس منصوبے کیلئے800 کنال زمین دی ہے مگر 2004 کے بجائے 2018 ء میں حکومت نے یہاں مہمند ماڈل سکول غازی بیگ کے نام سے ایک سکول قائم کیا۔ مگر ابھی تک ہم کو زمین کی ریٹ نہیں دی گئی ہے۔
 
انہوں نے مزید کہا ہم نے بار بار پاک فوج و اعلیٰ حکام کو اس سلسلے میں آگاہ کیا ہے۔ اور سکول بھی فوج کی کنسٹرکشن کمپنی نے تعمیر کیا۔ اب کلاسفور ملازمین کو بھی دوسرے علاقوں سے لا کر بھرتی کر رہے ہیں۔
 
انہوں نے کہا کہ ایک طرف ہمیں زمینوں کا ریٹ نہیں دیا گیا تو دوسری طرف کلاسفور ملازمین بھی دوسرے علاقوں سے بھرتی کئے جا رہے ہیں۔ جو کہ ہمارے ساتھ سراسر ظلم و نا انصافی ہے۔
 
انہوں نے کو ر کمانڈر، وزیر اعلیٰ خیبر پختونخواہ، گورنر، ڈی سی مہمند، کمانڈنٹ مہمند رائفلز سے پر زور اپیل کرتے ہیں کہ ہم غریب لوگ ہیں اور ہمارے مسئلے کو فوری طور پر حل کرے۔ اور ہمیں احتجاج پر مجبور نہ کیا جائے۔