قبائلی علاقوں میں پاک فوج کی تعیناتی ختم کرنے کا فیصلہ

Share on facebook
Share on google
Share on twitter
Share on linkedin
آئی جی ایف سی نے پی کے سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کو بریفنگ دیتے ہوئے قبائلی علاقوں میں پاک فوج کی تعیناتی ختم کرنے کا فیصلہ کر دیا.
 
آئی جی ایف سی کا کہنا ہے کہ قبائلی علاقہ جات میں فوج کی جگہ ایف سی خیبرپختونخوا کام کرے گی. ہمارے جوان اقوام متحدہ میں امن مشنز پر بھی جاتے ہیں، ہماری 61 خواتین سپاہی بھی ہیں جو باقاعدہ آپریشن میں حصہ لیتی ہیں۔
 
آئی جی ایف سی نے اعلان کیا ہے کہ وہ قبائلی علاقے جو صوبہ خیبرپختونخواہ میں ضم کیے جا چکے ہیں، ان علاقوں میں فوج کی جگہ ایف سی خیبرپختونخوا کام کرے گی۔ آئی جی ایف سی کے پی کے نے سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا ہے کہ طورخم بارڈر پر بائیو میٹرک سسٹم لگانا ضروری ہے۔
 
انہوں نے قائمہ کمیٹی کو بتایا گیا کہ ہمیں پتہ ہونا چاہیے کہ کون پاکستان میں آ رہا ہے اور کون جا رہا ہے۔ انہوں نے کہاکہ طورخم میں ایف آئی اے اسٹاف بھی بڑھانے کی ضرورت ہے۔
 
آئی جی ایف سی نے کہا کہ تحریک طالبان باجوڑ، جماعت الحرار اور تحریک طالبان سائوتھ بڑے خطرات ہیں۔ داعش کا وجود پاکستان میں نہیں، داعش افغانستان کے ننگر ہار صوبہ میں ہے۔ انہوں نے کہاکہ ننگر ہار میں 1200 سے 1300 داعش کے لوگ ہیں۔ انہوں نے مزید کہا  کہ افغانستان سے داعش کے ساتھ فائرنگ کا تبادلہ ہوتا رہتا ہے۔
 
آئی جی ایف سی نے قائمہ کمیٹی کو  بتایا کہ باجوڑ اور مہمند شدت پسندوں کا گڑھ ہیں، افغانستان مجموعی طور پر 129 بار فائرنگ ہوئی۔ فائرنگ میں بڑے اور چھوٹے فائر بھی شامل ہیں.
 
پاک افغان بارڈر کے 822 میں سے 586 کلومیٹر پر باڑ لگا دی گئی ہے، بارڈر پر 215 قلعے بنا دئیے ہیں 59 قلعے زیر تعمیر ہیں۔انہوں نے کہاکہ قبائلی علاقوں میں اقتصادی سرگرمیاں ضروری ہیں ورنہ لوگ دوبارہ دہشت گردی کی طرف چلے جائیں گے۔
 
آئی جی ایف سی نے کہا کہ پورے بارڈر کو مائنز سے پاک کر رہے ہیں،بے شمار مائنز ایسی ہیں جن پر بھارتی نشانات ہیں، ایف سی نے پاک افغان بارڈر پر باڑ لگانے کے بعد کی ایک ویڈیو دکھائی
 
کمیٹی نے ایف سی اور پاک فوج کی قربانیوں کو سراہتے ہوئے خراج تحسین پیش کیا۔