جنوبی وزیرستان کا واحد تعلیمی ادارہ دورجدید میں بھی سہولیات سے محروم

Share on facebook
Share on google
Share on twitter
Share on linkedin
ضلع جنوبی وزیرستان کے ضلعی ہیڈکوارٹر وانا کا وہ واحد تعلیمی ادارہ ہے،جوکہ 1974 میں قائم ہوا،اپنی آدھی صدی پوری کرنے کے باوجود دورجدید میں بھی اس ادارے سے منسلک 900 کے قریب طلباء تمام تر سہولیات سے محروم ہیں. جس کی وجہ سے زیرتعلیم طلباء کی مستقبل تاریک نظر آرہی ہے.
 
گورنمنٹ ڈگری کالج وانا تاحال،اسٹاف،رہائشی ہاسٹلز،ٹرانسپورٹ،آئی،ٹی لیب،پلے گراونڈز حتی کہ پینے کے پانی سے محروم ہے. 2013 میں شروع ہونیوالی آئی ٹی لیب اور آساتذہ طلباء کیلئے تعمیر ہونیوالی عمارتیں 8 سال گذر جانے کے باوجود مکمل ہونے کا نام نہیں لے رہا.
 
2016 میں جب کالج کی عمارت کو آگ لگی،تو عمارت بڑی طرح سے جل کر راکھ ہوگیا، حکام نے ہنگامی بنیاد پر فنڈز کی منظوری دے کر ہنگامی طورپر اس پر کام کا آغاز ہوا،بدقسمتی سے 3 سال گزرجانے کے باوجودتعمیرات مکمل نہ ہوسکی.
 
طلباء کیلئے حکومت کی جانب سے دئے جانے والے وظائف، لیپ ٹاپ سکیم، ٹوورز فنڈز کی بندش کی وجہ سے کالج میں طلباء کی تعداد کم ہوگئی ہے،اور جو طلباء پڑھ رہے ہیں،وہ اس کی بندش کی وجہ سے پریشان ہیں .
 
کالج میں طلباء کو مختلف مسائل درپیش ہیں، طلباء کی صحت مندانہ سرگرمیوں کیلئے کوئی گرادی پلے گراونڈ نہیں،طلباء کیلئے نہ آئی ٹی لیب نہ ہاسٹلز نہ ٹرانسپورٹ یہاں تک کہ پینے کا پانی تک میسر نہیں.
 
کالج کے طلباء نے اعلی حکام سے اپیل کی ہے،کہ وہ کالج کے تمام مسائل کا نوٹس لیکر ان کے حل کیلئے فوری اقدامات اٹھائیں،تاکہ ہم بھی ملک کے دیگر طلباء کے ہم پلا ہوکر اپنی تعلیمی اور صحت مندانہ سرگرمیاں جاری رکھ سکیں۔
طلباء کے پرانے ہاسٹل کی عمارت کی حالت انتہائی بوسیدہ اور خستہ ہوگئی ہے،جوکہ کسی بھی وقت بڑے سانحہ کا پیش خیمہ ثابت ہوسکتا ہے.
طلباء اور پرنسپل نے طلباء کے روشن مستقبل کیلئے اعلی حکام سے مداخلت کرنے اور مسائل حل کرانے کی اپیل کی ہے
2013 میں گورنمنٹ ڈگری کالج وانا پر کام شروع ہے، لیکن 8 سال مکمل ہونے کے بعد تعمیر کا یہ کام تاحال سست روی کا شکار ہے جبکہ آئی ٹی لیب کی عمارت کی بھی یہی صورتحال ہے.
گورنمنٹ ڈگری کالج وانا وہ واحد ادارہ ہے جو سہولیات کی فقدان کی وجہ سے شہرت رکھتا ہے،
ڈگری کالج وانا کی معمولی تعمیرات اتنا عرصہ گذر جانے کے باوجود مکمل ہونے کا نام نہیں لے رہی، جوکہ ایک المیہ ہے.