سی آر ایس ایس : ورکشاپ سے ڈاکٹر قبلہ ایاز اور آمنہ سردار کا خطاب

Share on facebook
Share on google
Share on twitter
Share on linkedin

سی آر ایس ایس نے کرونا کے دوران طلباء و طالبات کیساتھ آن لائن ورکشاپ کا سلسلہ جاری رکھا ہے۔ آخری ورکشاپس میں جمہوریت اور حکمرانی، بین المذاہب ہم آہنگی اور قانون کی حکمرانی کے حوالے سے تبادلہ خیال ہوا۔

ایک ماہ کے دوران تین الگ الگ ورکشاپس سے پروفیسر ڈاکٹر قبلہ ایاز، ڈائریکٹر ایف آئی میر ویس نیاز اور سابقہ ایم پی اے آمنہ سردار نے خطاب کیا۔

قبلہ ایاز نے اپنے خطاب میں کہا کہ گلوبلائزیشن کے بعد کے دور میں دنیا بھر میں بین المذاہب اور بین المسالک ہم آہنگی پر امن بقائے باہمی کے لئے ناگزیر ہے۔کیونکہ جدید دور میں ایک ساتھ رہتے ہوئے ایک دوسرے کی قبولیت کے بغیر امن اور ترقی ناممکن ہے۔

دنیا بھر میں امن اور معاشی و معاشرتی ترقی کو یقینی بنانے کے لئے ایک دوسرے کا احترام اور برداشت بنیادی عنصر ہے۔

پاکستان بناتے وقت قائد اعظم کا نظریہ بھی ایک ایسے مملکت کا حصول تھا جہاں مختلف سیاسی سماجی اور معاشرتی پس منظر رکھنے والے والے لوگ مساوی احترام اور سلوک کیساتھ رہ سکے۔

انھوں نے کہا کہ امن کے داعیوں کو پیدا کرنے کے لئے تعلیمی اداروں سے بہتر کوئی جگہ نہیں۔ اس لئے اس مقصد کے لئے تعلیمی اداروں کو اپنا بھر پور کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے۔

انھوں نے عوام پر زور دیا کہ اقلیتوں کے حقوق اور ان کی عبادت گاہوں کا احترام و حفاظت ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ اس سے روگردانی دنیا بھر میں پاکستان کی بدنامی کا باعث بن رہی ہے۔

ڈائریکٹر ایڈ منسٹریشن ایف آئی اے میر ویس نیاز نے کہا کہ کرونا وباء کے دوران پاکستان نے کئی ایک ممالک کی نسبت بحران سے نمٹنے میں بہتر کارکردگی دکھائی ہے۔

این سی او سی کیساتھ ساتھ خاص کر محکمہ صحت اور سیکورٹی اداروں نے کامیابی کیساتھ حالات کا مقابلہ کیا۔ اگرچہ اس وباء نے مختلف اداروں کو ایک جیسے متاثر کیا مگر محکمہ پولیس حکومتی ہدایات اور ایس او اپیز پر عملدرآمد کے لئے براہ راست عوام سے رابطے کا پابند تھا۔

جس نے بعض کمزوریوں کے باوجود اپنے فرائض بہتر انداز میں ادا کئے۔ انھوں نے کرونا وباء کے دوران نجی شعبے کے کردار اور عوامی تعاون کی تعریف کی اور کہا کہ ایس او پیز پر عملدرآمد اور وباء کا مقابلہ عوامی تعاون کے بغیر ممکن ہی نہ تھا۔

کیونکہ ذمہ دار شہریوں کے بغیر ملکی مشکلات پر قابو پانا ناممکن ہوتا ہے۔ پاکستانیوں نے ثابت کیا کہ وہ کسی بھی قومی بحران میں اتفاق و اتحاد کیساتھ ساتھ ذمہ دار شہری ہونے کا ثبو ت دے سکتے ہیں۔
سابقہ ممبر پختونخوا اسمبلی آمنہ سردار نے کہا۔ کہ عوام کی سیاسی بیداری جمہوری عمل کی ترقی اور حکمرانی کو بہتر بنانے کے لئے ناگزیر ہے۔

انھوں نے کہا کہ وسائل کی متوان تقسیم،بہتر طرز حکمرانی اور بلا امتیاز احتساب کا نظام ملکی ترقی کے لئے ضروری ہے اور اس میں کامیابی کے لئے معاشرے کی نصف آبادی یعنی خواتین کو بھی آگے آکر کردار ادا کرنا ہوگا۔

آمنہ سردار نے کہا کہ ملک میں حکمرانی کو متاثر کرنے والا ایک اہم عنصر ریاستی اداروں کے مابین تعلقات ہیں لہذا ان میں آئینی حدود کے اندر رہتے ہوئے باہمی تعلق اور ہم آہنگی کا رشتہ بہت ضروری ہے.

انھوں نے کہا کہ وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم عدم مساوات اور غربت معاشرے کی تقسیم اور نااتفاقی کا سبب بن رہا ہے۔

لہذا جمہوری حکمرانوں کو اس کے سدباب پر غور کرنا چاہیے۔ اولسی تڑون کے یہ تینوں آن لائن ورکشاپس کرونا وباء کیوجہ سے اجتماع پر پابندیوں کیوجہ سے منعقد کئے گئے۔ جس میں بیس سے زیادہ یونیورسٹیوں کے تقریبا ستر طلباء و طالبات نے شرکت کی۔