پاراچنار: ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال محض اعلانات کی حد تک محدود

Share on facebook
Share on google
Share on twitter
Share on linkedin

ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال پاراچنار میں سپیشلسٹ ڈاکٹروں سمیت ایک سو پانچ اسامیاں خالی ہونے کے باعث مریضوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے.

ضلع کے واحد بڑے ہسپتال کی اپ گریڈیشن اور دیگر سہولیات کی فراہمی محض سیاسی پوائنٹ سکورنگ اور اعلانات کی حد تک محدود ہے، عوام معمولی بیماریوں کے علاج کیلئے بھی پشاور اور اسلام آباد جانے پر مجبور ہیں۔

ضلع کرم کے واحد بڑے ہسپتال میں سہولیات کی عدم دستیابی کے باعث مریض مشکلات سے دو چار ہیں ہسپتال گذشتہ کئی عشروں سے سیاسی اعلانات تک محدود ہے.

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا نے متعدد بار دورہ ضلع کرم کے موقع پر ہسپتال کی اپ گریڈیشن اور ڈاکٹروں کی کمی پورا کرنے سمیت ضلع کرم میں میڈیکل کالج کا قیام اور کرونا وائرس کے دوران ہنگامی بنیادوں پر ہسپتال کیلئے ایک کروڑ روپے کی منظوری بھی محض اعلانات کی حد تک محدود رہے۔

ضلع کے واحد جدید طرز پر تعمیر شدہ ٹراما سنٹر بھی عملہ نہ ہونے کے باعث بھوت بنگلے کا منظر پیش کر رہا ہے۔

قبائلی رہنما حاجی جمیل طوری، آغا مزمل حسین، محمود علی طوری نے میڈیا کو بتایا کہ موسم سرما کے دوران ضلع کرم میں شدید سردی پڑتی ہے اور مریضوں ڈاکٹروں خصوصاً گائنی وارڈ میں زچہ بچہ کو سردی سے بچانے کے لئے کسی قسم سہولیات موجود نہیں۔ جس کے باعث آئے روز اموات میں اضافہ ہورہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہسپتال کے حوالے سے ہر دور حکومت میں وزار نے محض اپنی سیاست کو چمکایا ہے اور اشتہارات کی حد تک ہسپتال کو اپ گریڈ کیا ہے جبکہ زمینی حقائق اس کے برعکس ہے ہسپتال میں سہولیات کی عدم دستیابی کے باعث عوام معمولی بیماری کیلئے ملک کے دیگر شہروں کو جانے پر مجبور ہیں۔

ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال پاراچنار کے ایم ایس ڈاکٹر عبدالقدوس نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ہسپتال میں کل ایک سو پانچ اسامیاں خالی ہیں جس میں سپیشلسٹ ڈاکٹروں، ایم اوز، ایم او یوز، گائناکالوجسٹ اور دیگر عملہ شامل ہے۔

انہوں نے کہا کہ بجلی کی بدترین لوڈ شیڈنگ کے باعث ہسپتال کے اوقات کار کے دوران مختلف مشینیں بند ہونے کے باعث شدید مشکلات کا سامنا ہے اور ہسپتال کے زیادہ تر فنڈ بجلی نہ ہونے کے باعث خرچ ہورہے ہیں۔

ہسپتال میں آکسیجن پلانٹ نہ ہونے کے باعث آکسیجن کی کمی کا سامنا ہے اور ڈائلیسز کیلئے نیفرالوجی وارڈ اور عملہ نہ ہونے کی وجہ سے گردوں کے مریضوں کی زندگیوں کو خطرہ درپیش ہے۔

انہوں نے کہا کہ کرونا وائرس کی آنے والے لہر کیلئے ہسپتال میں کسی قسم سہولیات موجود نہیں۔ ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال کے ایم ایس ڈاکٹر عبدالقدوس نے بتایا کہ ہسپتال میں ڈاکٹروں کی مزید کمی ختم کرنے کے لئے پوسٹ اپ گریڈیشن اور فور ٹائپ فارمولا بروئے کار لایا جائے۔

انہوں نے کہا کہ وہ بمعہ عملہ انتہائی کم وسائل کے باوجود مریضوں کی علاج معالجے میں دن رات مصروف ہیں اور ہسپتال کی بہتری کیلئے کوششیں جاری ہیں۔