خاصہ دار فورس میں ایک بارپھر بے چین

Share on facebook
Share on google
Share on twitter
Share on linkedin

قبائلی اضلاع سے تعلق رکھنے والے خاصہ دارفورس نے خیبرپختونخوا حکومت کے نئے ایکٹ کو ماننے سے انکارکردیا۔ بدھ کے روز حیات آباد باغ ناران میں آل فاٹا خاصہ دار فورس کا اجلاس چیئرمین سیدجلال وزیر کے قیادت میں ہوا۔

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سید جلال وزیر کا کہنا تھا کہ صوبائی حکومت نے ان سے وعدہ کیا تھا کہ انکو پولیس فورس میں ضم کیا جائے گا اور پولیس فورس جیسی مراعات سے بھی نوازا جائے گا تاہم اب حکومت خیبرپختونخوا لیویز خاصہ دار ایکٹ 2019 کے ذریعے ان کو پولیس فورس کی بجائے لیویز میں ضم کرنے کا ارادہ رکھتی ہے جو انکو نامنظور ہے۔

انہوں نے کہا کہ 28 ہزار خاصہ دار و لیویز فورس کے حقوق کیلئے ہر حد تک جائینگے، اگر 4,10,2019 تک خیبر پختونخوا حکومت انکے کے فیصلے نہیں مانتی اور ان پر 2019 ایکٹ لاگو کرتی ہیں تو وہ اس کے خلاف احتجاج کرینگے. انہوں نے یہ بھی کہا کہ ڈی پی او کے علاوہ کسی ایک پولیس آفیسر کی تعیناتی قبائلی اضلاع میں نہیں مانتے.

ذرائع کے مطابق مذکورہ ایکٹ صوبائی کابینہ سے منظور کی جاچکی ہے اورخیبرپختونخوا اسمبلی سے منظوری کے لیے 7 ستمبرکو اسمبلی میں پیش کی جائے گی۔

یاد رہے کہ خیبرپختونخوا حکومت نے 8 اپریل 2019 کو قبائلی اضلاع میں خدمات انجام دینے والے لیویز اور خاصہ داراہلکاروں کوپولیس میں ضم کرنے کا اعلان کیا تھا۔ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے نوٹی فکیشن کے مطابق اس کام کے لیے 6 ماہ کا وقت دیا گیا ہے اور یہ انضمام رواں سال اکتوبر تک مکمل ہوگا۔

واضح رہے کہ لیویز اور خاصہ دار فورس قبائلی اضلاع میں پولیس نظام کے خلاف کئی ایک احتجاج بھی کرچکے ہیں۔