کے ٹو : غیر ملکی کوہ پیما بیس کیمپ پہنچنا شروع

Share on facebook
Share on google
Share on twitter
Share on linkedin

دنیا کی دوسری بلند ترین کے ٹو چوٹی پر موسم سرما میں تاریخی مہم جوئی کیلئے غیر ملکی کوہ پیمائوں کی ٹیمیں بیس کیمپ پہنچنا شروع ہو گئیں۔

الپائن کلب آف پاکستان سیکرٹری کرار حیدری کے مطابق تاریخ کی سب سے بڑی مہم جوئی کیلئے ملکی و غیر ملکی کوہ پیمائوں کی ٹیمیں کے ٹو بیس کیمپ پہنچنا شروع ہو گیا ہے۔

نرمل پورجا کی سربراہی میں کوہ پیمائوں کا ایک گروپ بیس کیمپ پہنچ چکا ہے۔

دو ایکسپیڈیشن ٹیمیں پہلے ہی کے ٹو بیس کیمپ پر موجود ہیں جبکہ معروف کوہ پیما جون سنوری کی قیادت میں سکردو کے کوہ پیما محمد علی سدپارہ اور ان کے فرزند سجاد علی سدپارہ اور نیپال کے منگما شرپا کی سربراہی میں تین کوہ پیما کیمپ ون پہنچ چکے ہیں۔

8 ہزار 6 سو میٹر بلند دنیا کی دوسری بلند ترین چوٹی کو موسم سرما میں آج تک کوئی کوہ پیما سر نہ کر سکا ہے۔

اس سے پہلے کئی بار کوہ پیمائوں کی جانب سے موسم سرما میں کے ٹو سر کر کے تاریخ رقم کرنے کی تمام تر کوششیں ناکام ہو چکی ہیں۔

2018ء میں جنوری اور فروری میں پولینڈ، روس اور دیگر ممالک سے تعلق رکھنے والے کئی کوہ پیمائوں نے موسم سرما میں کے ٹو سر کرنے کی کوشش کی تھی، مہم جوئی کے دوران دو کوہ پیما زخمی ہوئے جنہیں پاک فوج کے ہیلی کاپٹر کے زریعے ریسکیو کر لیا گیا تھا۔

جنوری 2020ء میں آئس لینڈ، نیپال، چین اور سلووینیا کے کوہ پیمائوں کی ایک ٹیم نے بھی سر کرنے کی کوشش کی تھی لیکن ناکام رہی۔

یاد رہے کہ دنیا کی دوسری بلند ترین چوٹی پر تاریخ کی سب سے بڑی مہم جوئی کا آغاز 24 دسمبر سے ہو گیا تھا۔ امریکہ، برطانیہ، بیلجیئم، یونان، فن لینڈ، سپین، سلوانیا، اٹلی، نیپال، کینیڈا، سوئٹزرلینڈ سمیت دنیا کے 18 ممالک کے 54 کوہ پیما مہم میں حصہ لے رہے ہیں۔