بیزدرہ پرائمری سکول قبائلی علاقوں میں ایک نہیں سینکڑوں ہیں

Share on facebook
Share on google
Share on twitter
Share on linkedin

گورنمنٹ پرائمری سکول بیز درہ سنٹرل اورکزئی علاقے میں سینکڑوں نفوس پر مشتمل آبادی کیلئے واحد سکول ہے جس میں تین سو سے زائد طلبہ یرتعلیم ہیں لیکن انہیں پڑھانے کیلئے صرف دو اساتذہ ہیں۔

سکول ہٰذا میں بجلی کا نظام ہے نہ ہی پانی کا، سکول کی چار دیواری ہے نہ ہی واش روم کا کوئی بندوبست، اساتذہ اور دیگر عملے کیلئے بس ایک ہی واش روم ہے جسے ان کے ساتھ ساتھ طلبہ بھی استعمال کرتے یں۔

قبائلی علاقوں کے سرکاری سکولوں کے حوالے سے گزشتہ ماہ انڈیپنڈنٹ مانیٹرنگ یونٹ (آئی ایم یو) نے ایک رپورٹ جاری کی ہے جس سے معلوم ہوا کہ اورکزئی کا بیزدرہ پرائمری سکول کی ہی صرف یہ حالت نہیں بلکہ قبائلی علاقوں کے دیگر سینکڑوں سکولوں کا بھی یہی حال ہے۔

سکولوں کی نگرانی پر مقرر آئی ایم یو ادارے کو قبائلی اضلع تک توسیع  تو نہیں دی گئی تاہم خیبرپختونخوا حکومت نے تعلیمی اداروں کی اصل حالت جاننے کیلئے اسی کے ذریعے سات قبائلی اضلاع اور چھ سب ڈویژنوں میں سروے کرایا اور رپورٹ جاری کی۔

آئی ایم یو نے قائلی اضلاع کے 5889 میں سے 5788 سکولوں کا دورہ کیا اور وہاں سہولیات، اساتذہ اور طلبہ کے حوالے سے تفصیلات جمع کیں۔

رپورٹ کے مطابق قبائلی علاقوں میں 55 فیصد سکولوں میں بجلی، 51 فیصد میں پانی، 30 فیصد میں واش روم جبکہ 18 فیصد سکولوں میں چاردیواری کا کوئی بندوبست ہی نہیں۔

رپورٹ کے مطابق قبائلی علاقوں میں آج بھی 1276 سکول عارضی طور پر جبکہ 167 مستقل طور پر بند ہیں۔

قبائلی علاقوں میں سکولوں کی حالت اور تعلیم کے معیار پر پہلے بھی تنقید کی جاتی تھی لیکن اب حکومتی سروے میں ان ی اصل حالت سامنے آئی ہے جس نے ماہرین تعلیم کو ہی سوچنے پر مجبور نہیں کیا بلکہ والدین بھی فکرمند ہوگئے ہیں۔

اس حوالے سے قبائلی ضلع کرم سے تعلق رکھنے والے سابق استاد اور ماہر تعلیم حمید حسن کہتے یں کہ  سکولوں میں بنیادی سہولیات کا فقدان ہو تو اس کا براہ راست اثر طلبہ کے اذہان پر پڑت ہے اور ظاہری بات ہے کہ معیار تعلیم بھی متاثر ہوگا۔

ٹرائبل پریس کے ساتھ گفتگو میں ان کا کہنا تھا کہ پڑھنے کیلئے ایک مخصوص ماحول درکار ہوتا ہے اور اگر وہ میسر نہ ہو تو طلبہ پڑھائی میں دلچسپی نہیں لیتے۔

حمید حسن نے کہا کہ آئی ایم یو رپورٹ سے سکولوں کا حال سامنے آگیا ہے اب حکومت کو چاہیے کہ سالانہ ترقیاتی فنڈ میں سکولوں کیلئے مختص رقم میں اضافہ کرے اور نہ صرف سکولوں میں بنیادی سہولیات کی فراہمی بلکہ معیار تعلیم کی بہتری پر بھی خصوصی توجہ دے۔

آئی ایم یو رپورٹ کے مطابق قبائلی علاقوں میں واقع سرکاری سکولوں میں مجموعی طور پر 5 لاکھ 9 ہزار طلباء زیر تعلیم ہیں جبکہ محکمہ کے پاس انہیں پڑھانے کیلئے کل 15  ہزار اساتذہ ہیں، سکولوں میں 18 فیصد اساتذہ جبکہ 32 فیصد طلبہ غیرحاضر پائے گئے۔

اس حوالے سے شمالی وزیرستان سے تعلق رکھنے والی سماجی کارکن زہرہ بی بی کہتی ہیں کہ قبائلی علاقوں میں اساتذہ اور طلباء کی غیرحاضری ایک بہت بڑا مسئلہ ہے جو آئی ایم یو ایسے ادارے کی توسیع کے ساتھ بڑی حد تک حل ہوسکتا ہے۔

ٹرائبل پریس کے ساتھ گفتگو میں زہرہ بی بی نے الزام عائد کیا کہ قبائلی علاقوں کے سکولوں میں آج بھی سینکڑوں ایسے اساتذہ ہیں جو بیرون ملک مقیم اور ان کی تنخواہ یہاں ہر ماہ باقاعدگی سے جاری کی جاتی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ایسے اساتذہ اپنی جگہ کسی اور کو بھیجتے ہیں اور اپنی تنخواہ میں سے انہیں ادائیگی کرتے ہیں۔

زہرہ بی بی کے مطابق آئی ایم یو نے خیبرپختونخوا میں اساتذہ کی حاضری یقینی بنانے میں اہم کردار اداکیا ہے جس کی قبائلی اضلاع تک توسیع سے اس مسئلہ کو کافی حد تک قابو پایا جاسکتا ہے۔

دوسری جانب آئی ایم یو کی قبائلی اضلاع تک تویسع کے حوالے سے مشیرتعلیم ضیا اللہ بنگش کا کہنا تھا کہ اس کیلئے بھرتیاں ہوئی ہیں اور حکومت ستمبر سے باقاعدہ کام شروع کرنے کا  ارادہ رکھتی ہے۔

ٹرائبل پریس کے ساتھ گفتگو میں ان کا کہنا تھا کہ آئی ایم یو رپورٹ چشم کشا ہے اور یہی وجہ ہے کہ امسال قبائلی اضلاع میں تعلیم کیلئے 36 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ دو اساتذہ کیلئے تین سو طلبہ کو پڑھانا ممکن نہیں اور قبائلی اضلاع میں خراب معیار تعلیم کی ایک بڑی وجہ بھی یہی ہے۔

واضح رہے کہ قبائلی اضلاع میں اس وقت ہزاروں اساتذہ کی کمی ہے جسے پورا کرنے کیلئے حکومت نے فوری طور پر 5 ہزار اساتذہ بھرتی کرنے کا اعلان کیا ہے۔