ضلع مہمند میں ٹیوب ویل، چشمے کے تنازعے پر فائرنگ، بارہ سالہ لڑکا جاں بحق جبکہ تین زخمی

Share on facebook
Share on google
Share on twitter
Share on linkedin

ضلع مہمند تحصیل صافی زیارت میں ٹیوب ویل، چشمے کے تنازعے پر فائرنگ۔ فائرنگ کے نتیجے میں ایک بارہ سالہ لڑکا جاں بحق جبکہ تین زخمی۔

لواحقین اور علاقے کے لوگوں نے میت مہمند پریس کلب کے سامنے رکھ کر شدید احتجاج کیا۔ پشاور ٹو باجوڑ شاہراہ پر نعش رکھ کر ایک گھنٹے کیلئے ٹریفک مکمل طور پر بند رکھا گیا۔ قاتلوں کی فوری گرفتاری کا مطالبہ۔

ایم این اے ساجد خان مہمند اور ایم پی اے عباس رحمن کا مظاہرین کے ساتھ مذاکرات۔ مقامی انتظامیہ رپورٹ اور پولیس کے مطابق تحصیل صافی زیارت علاقے میں حاجی صوبیدار اور فضل ربی فریقین کے درمیان پانی کے چشمے اور ٹیوب ویل پر تنازعہ چلا آرہا تھا جس پر فریق فضل ربی نے کچھ دن پہلے مقامی عدالت سے حکم امتناعی حاصل کیا تھا۔

ہفتے کے دن متنازعہ جگہ پر کام کے دوران جھگڑا ہوا۔ انتظامیہ اور پولیس رپورٹ کے مطابق حاجی صوبیدار گروپ کی جانب سے فائرنگ کے نتیجے میں فضل ربی کا بارہ سالہ بیٹا موقع پر جاں بحق ہوا۔ جبکہ فضل ربی اُن کا دوسرا بیٹا اور ایک بھائی زخمی ہوئے ہیں۔

زخمیوں کو ابتدائی علاج کیلئے غلنئی ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔ مقامی پولیس ایس ایچ اواپر مہمند کے مطابق زخمی اور رضوان کے مطابق صوبیدار، سلمان، اسرار اور صمد پر دعویداری کی گئی۔ اور دفعہ 302 ،324 / 34 کے تحت مقدمہ درج کیا گیا۔

 پولیس نے جائے وقوعہ سے اسلحہ قبضے میں لیکر صوبیدار فریق کے پانچ افراد حراست میں لیئے۔ واقعہ کے بعد لواحقین نے غلنئی بازار میں پشاور ٹو باجوڑ شاہراہ پر مہمند پریس کلب کے سامنے نعش سڑک پر رکھ کر شدید احتجاج کیا۔ اور سڑک کو ہر قسم ٹریفک کیلئے بند رکھا گیا۔

احتجاج سے خطاب کرتے ہوئے ملک سادول اور ایڈوکیٹ رضاء خان صافی نے کہا کہ متنازعہ جگہ پر فضل ربی نے حکم امتناعی حاصل کیا تھا لیکن حاجی صوبیدار نے اس پر ہفتے کے روز تعمیراتی کام شروع کیا، انہوں نے کہا کہ حاجی صوبیدار کے دو بیٹوں اور بھتیجے نے فضل ربی اور ان کے خاندان کے افراد پر فائرنگ کھول دی۔ جس کے نتیجے میں فضل ربی کا بارہ سالہ بیٹا ذیشان جاں بحق اور ایک بھائی زخمی ہو گیا۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ قاتلوں کو فوری طور پر گرفتار کیا جائے۔ انہوں نے انتظامیہ اور پولیس پر الزام لگایا کہ قاتل با اثر ہے ان کے خلاف کاروائی میں سستی کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔

اس دوران ایم این اے ساجد خان مہمند اور ایم پی اے عباس رحمن نے مظاہرین سے مذاکرات کیئے اور کہا کہ انصاف دلانے میں اُن کا بھر پور ساتھ دینگے۔ بعد میں لواحقین نے غلنئی میں احتجاج ختم کیا۔

تاہم تحصیل صافی باؤتہ بازار میں لواحقین، سیاسی اور مقامی لوگوں نے دوبارہ احتجاجاً نعش سڑک پر رکھ کر شدید احتجاج کیا اور مطالبہ کیا کہ با اثر قاتلوں کو فوری طور پر گرفتار کیا جائے۔اس موقع پر ڈی ایس پی جان محمد اور دوسرے پولیس حکام نے مظاہرین سے احتجاج ختم کرنے کیلئے مذاکرات کئے۔

مقامی پولیس کے ایس ایچ او سردار حسین نے میڈیا کو فون پر بتایا کہ قاتلوں کی گرفتاری کیلئے پولیس چھاپے مار رہی ہے۔ تا ہم احتجاج کی وجہ سے ایف آئی آر درج ہونے میں وقت لگا۔