فاٹا انضمام کےایسے ثمرات جس نے قبائلی عوام کی زندگی بدل کے رکھ دی

Share on facebook
Share on pinterest
Share on twitter
Share on linkedin

قبائلی اضلاع کے لوگوں نے ایک لمبا عرصہ بنیادی سہولیات سے محرومی میں اور ایف سی آر قانون کے تحت گزارا ہے تاہم پاکستان مسلم لیگ نون کے دور حکومت میں ایک تاریخ ساز 25 ویں آئینی ترمیم کے ذریعے قبائلی اضلاع سے ایف سی آر کا خاتمہ کرتے ہوئے ان علاقوں کو خیبرپختونخوا کے ساتھ ضم کردیا گیا. فاٹا انضمام کا بل 24 مئی 2018 ء کو قومی اسمبلی میں پیش کیا گیا جسے کثرت رائے سے منظور کیا گیا، بعد ازاں 25 آئینی ترمیم کو سینیٹ سے بھی منظور کیا گیا اور 28 مئی  2018 ء کو صدر مملکت کے دستخط کے بعد قبائلی علاقے باضابطہ طور خیبرپختونخوا کا حصہ بن گئے جبکہ ایف سی آر کا قصہ تمام ہوا۔ قبائلی اضلاع کے خیبرپختونخوا میں انضمام کے بعد ان علاقوں میں 1973 ء کے آئین کا نفاذ ہوگیا ہے اور انضمام کے سلسلے میں قبائلی اضلاع میں ترقیاتی منصوبے بھی جاری ہیں۔ قبائلی اضلاع کے انضمام کو قریبا ایک سال بیت گیا ہے اس عرصے میں قبائلی عوام کو انضمام کے ثمرات بھی ملنا شروع ہوئے ہیں جن میں سے چند قابل ذکر یہ ہیں۔