پشتونوں نے میرا دل جیت لیا ہے۔ بیورلے

Share on facebook
Share on google
Share on twitter
Share on linkedin

امریکی ریاست نارتھ کیرولائنا میں پاکستان خصوصاَ پختونوں کی محبت میں گرفتار ایک خاتون رہتی ہیں، محبت اتنی اور ایسی کہ باقاعدہ پشتو زبان سیکھ رہی ہیں کیونکہ ان کی خواہش ہے کہ یہاں سے کوچ کرجائیں اور زندگی کی آخری سانس تک خیبر پختونخواہ میں رہیں۔

نمائندہ ٹربل پریس کے ساتھ اپنے مختصر تعارف میں وہ کہتی ہیں، ” میرا نام بیورلے ہے اور میں 35 سال کی شادی شدہ خاتون ہوں، میرے دو جوان بچے بھی ہیں، میرے شوہر کا نام ماٸیک ہے اور وہ 47 سال کے ہیں، میں کوٸی کام نہیں کرتی اور میرا شوہر ایک ٹیکسٹاٸل کمپنی میں منیجر ہے“۔

بیورلے ایسی خاتون ہیں جو امریکہ سے باہر کہیں نہیں گٸیں، انہیں پاکستان کے متعلق کیسے پتہ چلا اور اتنی محبت کیسے پیدا ہوگٸی ؟ اس بارے میں وہ کہتی ہیں۔

” پاکستان کا نام تو تقریباً ہر جگہ سنا جاتا ہے لیکن یہاں میڈیا پر کوٸی مثبت خبریں شاٸع نہیں ہوتیں، دوسرے ہم ہالی ووڈ فلموں میں دیکھتے ہیں جہاں اسے عموماً منفی انداز میں پیش کیا جاتا ہے لیکن مجھے پاکستان اور پاکستان کی حقیقت کا پتہ تب چلا جب میرا سامنا انٹرنیٹ پر پاکستان میں رہاٸش پذیر ایک افغان مہاجر سے ہوا، جب مجھے بتایا گیا کہ پاکستان کتنا اچھا ملک ہے، پاکستان میں ہم بہت پر امن ہیں تو میں اور بھی حیران رہ گٸی کیونکہ مجھے پہلے بھی اندازہ تھا کہ ہمارا میڈیا غلط ہے، پھر جب میں نے سوات اور گلگت کے تصاویر دیکھے تب سے اب تک وہاں گٸے بغیر بھی مجھے ان علاقوں کی بیماری لگ گٸی ہے اور مجھے اپنا گھر جیسا محسوس ہو رہا ہے، مجھے لگتا ہے دنیا میں خوبصورتی، کلچر اور اچھے لوگوں کے لیے یہی ایک جگہ ہے۔“

بیورلے کے سوشل میڈیا پر بہت سارے پشتون دوست ہیں، پشتونوں کے ساتھ بے انتہا محبت کی وجہ بتاتے ہوٸے کہتی ہیں۔

”مجھے لگتا ہے کہ میں نے زندگی میں جتنے لوگوں کا سامنا کیا ہے ان سب میں پشتون سب سے زیادہ سچے دل والے لوگ ہیں، میں نے بہت کم پشتون دیکھے ہیں جو متقی یعنی اللہ کے قریب نہ ہوں۔ ایک آمریکی خاتون کے ہوتے ہوٸے بھی ان لوگوں نے مجھے بہت عزت دی اور کبھی غلط الفاظ یا حرکت کا سامنا نہیں ہوا۔ کسی نے کبھی مجھے تصویریں بھیجنے کا مطالبہ نہیں کیا اور نہ ہی غلط طریقے سے بات کی۔ میں صرف اتنا کہنا چاہتی ہوں کہ پشتون پراعتماد، مہماں نواز اور رحم دل لوگ ہیں۔ اور اگر کبھی کسی نے مجھ سے کہا کہ پشتونوں کو میں پسند نہیں کرتا/کرتی تو اس وقت میں اہنی زندگی کی بازی بھی لگا سکتی ہوں کیونکہ ایسے لوگ ذاتی طور پر پشتونوں کو جانتے ہی نہیں۔ میرے پاس سوشل میڈیا پر باقی پاکستانی لوگ بھی موجود ہیں لیکن ان کے ساتھ بلاک کا بٹن زیادہ استعمال کرتی ہوں، عام طور پر مجھے سارے پاکستانی اچھے لگتے ہیں لیکن پشتونوں نے میرا دل جیت لیا ہے۔”

پشتونوں سے محبت نے بیورلے کو پشتو زبان سیکھنے پر مجبور کررکھا ہے، جہاں سے جو بھی یا کچھ بھی سیکھنے کو ملے، غرض یہ کہ پشتو زبان کے پیچھے لگی ہوٸی ہیں اور مختلف لوگوں سے رابطے کی کوشش کر رہی ہیں تاکہ انہیں باقاعدہ استاد ملے۔ اس حوالے سے بیورلے کہتی ہیں، ” گوگل انگریزی کا پشتو میں ترجمہ نہیں دے رہا لیکن میں جانتی ہوں کہ گوگل سے میں خود بہتر سیکھ سکتی ہوں حالانکہ میں پشتو کی بورڈ تو استعمال نہیں کر سکتی لیکن میں اس طرح لکھتی ہوں ‘Za beverly yem’ یعنی میں بیورلے ہوں، لیکن ایک جملہ میرے دماغ میں انسٹال ہو چکا ہے۔ اور وہ ہے ‘Qasam da ta sara meena laram pashtuns’ اور اسکا مطلب ہے کہ ”میں وعدہ کرتی ہوں پشتون کہ مجھے آپ سے محبت ہے“ اور میں یہ بھی کہ سکتی ہوں ‘ Trump Kamakal’ کیونکہ یہاں کوٸی نہیں جانتا کہ اس کا کیا مطلب ہے۔ اس کے علاوہ میں نے ایک نیا جملہ سیکھا ہے ‘Ma ba mani’ اور اسکا مطلب ہے کہ ”میں بہادر ہوں میں کرسکتی ہوں۔“ جب بھی میں مصیبت میں ہوتی ہوں اور مجھے حوصلے کی ضرورت ہوتی ہے تو میں یہی الفاظ پشتو میں دہراتی ہوں کیونکہ یہ پشتونوں کی زبان ہے اور ہشتون بہادر لوگ ہیں اور میرا خود کو حوصلہ دلانے کا ایک ذریعہ ہے“۔

کیا آپ پاکستان آنا چاہیں گی؟ ٹی۔این۔این کے اس سوال کا جواب دیتے ہوٸے کہتی ہیں،”مجھے بس کوٸی پاکستان لے جاٸے۔ جس دن مجھے جانے کا موقع ملا آپ دیکھوگے میں کبھی بھی واپس نہیں آؤں گی خیبر پختونخواہ میں رہ کر چھوٹا سا کاروبار اور فلاحی کام کرنا چاہتی ہوں۔ اور جب تک میں مر نہ جاٶں تب تک میں وہاں سے ہلوں گی نہیں۔ اس حوالے سے میں نے مختلف لوگوں سے رابطے شروع کیے ہیں شاید کسی دن میں وہاں جانے میں کامیاب ہوجاٶں“۔
پاکستانیوں کو محبت کا پیغام دیتے ہوٸے انہوں نے کہا،
” پاکستانیو محنت کرو، اور جان لگاٶ مجھے پتہ ہے ویسٹرن میڈیا نے آپ لوگوں کو غلط رنگ دیا ہے لیکن جیت ہمیشہ سچ کی ہوگی۔ ہم اتنے وفادار اور اچھے نہیں جتنے آپ لوگ قدرتی طور پر ہیں۔ ہمارے ہاں ہمارے لیے لڑنے والے سپاہیوں کو بے گھر اور ملک بدر کیا جاتا ہے لہٰذا کسی اچھاٸی یا براٸی کی توقع نہ رکھیں لیکن یہ بات بہت غلط ہے کہ ہم سب برے ہیں۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ ہمارے دو پارٹی سسٹم نے ہمیں خود بھی تقسیم کر دیا ہے لیکن یہاں بہت سے لوگ ایسے بھی ہیں جو آپ سے محبت کرتے ہیں۔ لیکن وہ لوگ جو حقاٸق جاننے کے بجاٸے میڈیا پر یقین رکتھے ہیں انکی سوچ الگ ہے۔ مجھے امید ہے کہ پاکستان دنیا میں ابھرے گا اور ایک پرامن دنیا بنانے میں اپنا کردار ادا کریگا۔