مشال قتل کیس : مرکزی ملزم کی سزائے موت عمر قید میں تبدیل

Share on facebook
Share on google
Share on twitter
Share on linkedin

پشاور ہائیکورٹ نے عبدالولی خان یونیورسٹی مردان کے طالبعلم مشال قتل کیس میں مجرم کی اپیل پر فیصلہ سناتے ہوئے مرکزی ملزم عمران کی سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کردیا۔

عدالت نے 25 ملزمان کی ضمانت پر رہائی کا فیصلہ بھی کالعدم قرار دے دیا اور تمام 25 ملزمان کو گرفتار کرنے کا حکم دیا۔

عدالت نے 7 ملزمان کی عمر قید کی سزا کو بحال رکھا ہے۔

پشاور ہائیکورٹ کے جسٹس لعل جان خٹک اور جسٹس عتیق شاہ نے 30 ستمبر کو فیصلہ محفوظ کیا تھا، مجرموں نے پشاور ہائیکورٹ میں انسداد دہشتگردی عدالت کے فیصلے کے خلاف اپیلیں کی تھیں۔

عدالت نے مذکورہ 25 ملزمان کی 3 سال کی سزا بھی برقرار رکھی ہے۔

خیال رہے کہ مشال خان کو تین سال قبل عبدالولی خان یونیورسٹی میں طلباء نے توہین رسالت کا الزام لگا کر تشدد کرکے قتل کردیا گیا تھا۔

7 فروری 2018 کو ایبٹ آباد کی انسداد دہشتگردی کی عدالت نے مشال خان قتل کیس کا فیصلہ ہری پور سینٹرل جیل میں سنا تھا۔

انسداد دہشت گردی عدالت کے جج فضل سبحان نے فیصلہ سناتے ہوئے 58 گرفتار ملزمان میں سے ایک ملزم عمران کو قتل کا جرم ثابت ہونے پر سزائے موت اور ایک لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی۔

عدالت نے 5 ملزمان میں سے فضل رازق، مجیب اللہ، اشفاق خان کو عمر قید جب کہ ملزمان مدثر بشیر اور بلال بخش کو عمر قید کے ساتھ ساتھ ایک، ایک لاکھ روپے جرمانے کی بھی سزائیں سنائیں تھیں۔