قبائلی ضلع اورکزئی کا گورنمنٹ مڈل سکول کی خاستہ حالی، علاقے کے بچے کھلے آسمان تلے پڑھنے پر مجبور

Share on facebook
Share on google
Share on twitter
Share on linkedin

قبائلی ضلع اورکزئی کا گورنمنٹ مڈل سکول کاشہ 2009 میں انتہا پسندوں کیخلاف آپریشن کے دوران مکمل طور پر تباہ ہوا تھا اور اب گزشتہ تین سالوں سے علاقے کے بچے کھلے آسمان تلے پڑھنے پر مجبور ہیں، بادوباران کی صورت میں یہ بچے قریبی مسجد میں پناہ لیتے اور اپنی پڑھائی جاری رکھتے ہیں۔

اس سکول میں قریبی علاقوں ابراھمو، خاوری اور طوطیانو میلہ کے بچے پڑھنے کیلئے آتے ہیں کیونکہ پانچ کلومیٹر کی حدود میں کوئی دوسرا سکول نہیں ہے اور جو تھا اس کی عمارت بھی بارود سے اڑا کر خاک میں ملا دی گئی ہے۔

سکول ہٰذا میں اس وقت 220 تک بچے زیرتعلیم ہیں جبکہ پرائمری اور مڈل دونوں سکولوں میں اساتذہ کی تعداد نو ہے۔

نمائندہ ٹربل پریس ساتھ گفتگو میں جماعت سوئم کے طالبعلم زلاند اورکزئی کا کہنا تھا کہ اول تو 2009 تا 2016 ہمارا سلسلہ تعلیم مکمل طور پر منقطع رہا کیونکہ سیکیورٹی فورسز کے انتہاپسندوں کیخلاف آپریشن کے باعث علاقہ مکمل طور پر خالی کر دیا گیا تھا، اب سکول واپس کھل گیا ہے لیکن ہم ایک کھنڈر میں درختوں کے سائے تلے بیٹھ کر پڑھ رہے ہیں۔

زلاند نے مزید بتایا کہ جب بارش ہوتی ہے یا سردی گرمی میں اضافہ ہوتا ہے تو ہم آدھ کلومیٹر دور گاؤں کی مسجد میں جاکر پڑھائی کرتے ہیں کیونکہ اور کوئی بندوبست ہی نہیں ہے۔

ملک عبدالرحمٰن اور ملک چمن نامی مقامی مشران کا کہنا تھا کہ اپنے بچوں کے مستقبل کے حوالے سے وہ بہت فکرمند ہیں، بارہا رکن قومی اسمبلی سے گزارش کی لیکن اس نے ہمارے بچوں کا کیا کرنا ہے، ان کی اسے کوئی فکر ہی نہیں ہے۔

بقول ان کے وزیراعظم کمپلینٹ سیل میں بھی انہوں نے شکایت درج کرائی ہے اور بار بار کی درخواستوں کے بعد جنوری میں کہیں جاکر پرائمری سیکشن کیلئے ٹینڈر جاری ہوا لیکن سات ماہ گزرنے کے بعد بھی ٹھیکیدار دکھائی نہیں دیتا اور ہمارے پھول جیسے بچے زمین پر بیٹھے رل رہے ہیں۔

مشران کے مطابق محکمہ تعلیم نے انہیں یقین دہانی کرائی ہے کہ مڈل سیکشن کو اگلے سالانہ ترقیاتی پروگرام میں شامل کیا جائے گا لیکن انہیں یقین نہیں آرہا کیونکہ پرائمری سیکشن کا حال ان کے سامنے ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ ان کے بچوں کا حال ہے، ان کی بچیوں کا مستقبل تو مکمل طور پر مخدوش ہے کیونکہ لڑکیوں کا ایک ہی سکول تھا جسے تباہ کردیا گیا اب عارضی سکول قائم کیا گیا ہے جہاں ایک ہی استانی ہے وہ بھی 20 دن غائب رہتی ہے اور کوئی پوچھنے والا نہیں۔

مقامی مشران اور بچوں کا انصاف کی دعویدار حکومت سے مطالبہ ہے کہ فوری طور ان کے سکول کی تعمیرنو کاکام شروع کیا جائے کیونکہ ملک کے دیگر ترقی یافتہ علاقوں کی طرح تعلیم ان کا بھی حق ہے جس کے ساتھ ان کا مستقبل وابستہ ہے۔v