غلام خان بارڈرپر تجارت کو مزید وسعت دی جائے گی

Share on facebook
Share on google
Share on twitter
Share on linkedin

شمالی وزیرستان میں امن بحال ہونے کے بعد غلام خان بارڈر پر پڑوسی ملک افغانستان کے ساتھ تجارت میں تیزی آئی ہے، ضلعی انتظامیہ کے مطابق آنے والے وقت میں کاروبار میں تجارت میں اور بھی وسعت آجائے گی۔

غلام خان بارڈرپر سال 2003ء سے 2014ء تک تجارت زور و شور سے جاری تھی، کئی لوگ بارڈر پر مختلف کاروباروں سے منسلک تھے اور سینکڑوں چھوٹی بڑی گاڑیاں مال لاتے اور لے جاتے تھے لیکن شمالی وزیرستان میں دہشت گردوں کے خلاف آپریشن ضرب عضب شروع ہونے کے بعد غلام خان بارڈرکو بند کردیا گیا تھا اور ہرقسم تجارت قریبا 3 سال کے لیے بند کردی گئی تھی۔

نمائندہ ٹربل پریس کے ساتھ بات چیت کے دوران غلام خان کے تحصیلدار غنی وزیر نے کہا ہے کہ 9 مارچ 2018 سے غلام خان بارڈر باقاعدہ طور پر کھول دیا گیا ہے جس کے بعد افغانستان سے بھی مال پاکستان آرہا ہے اور یہاں سے بھی سامان وہاں جارہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ جب آپریشن ضرب عضب کی وجہ سے بارڈر کو بند کردیا گیا تھا توکاروباری لوگ طورخم، چمن اور باقی علاقوں کو منتقل ہوگئے تھے لیکن اب بارڈرکھلنے کے بعد آہستہ آہستہ وہ لوگ شمالی وزیرستان کا رخ کررہے ہیں اور اپنے دفاتر اور دوکانوں کو کھول رہے ہیں۔

دوسری جانب سبزی کے کاروبار سے منسلک یونس خان کا کہنا ہے کہ بارڈر کا کھلنا خوش آئند ہے تاہم ضلعی انتظامیہ،سکیورٹی فورسز اور کسٹم حکام کو چاہیئے کہ کسٹم اور سکیورٹی کا عمل آسان بنائیں اور گاڑیوں کو کم وقت میں رخصت کریں۔

انہوں نے کہا آپریشن ضرب عضب سے پہلے غلام خان بارڈرپر ٹرانسپورٹرز اور کاروباری لوگوں کے لیے بہت آسانیاں تھی لیکن اب ایک گاڑی پر 8 سے 21 ہزار تک خرچہ آتا ہے، یونس خان نے کہا حکومت کی جانب سے ٹیکسز میں اضافہ کیا گیا ہے اور پرمٹ کی مد میں گاڑیوں سے ٹیکس لئے جارہے ہیں۔

غلام خان بارڈرپر افغانستان سے پاکستان ٹماٹر، پیاز، آلو اور تازہ اور خشک میوہ جات سمیت گاڑیوں کے سپیئرپارٹس بھی درآمد ہوتے ہیں جبکہ پاکستان سے سمینٹ، آٹا، چاول، چینی اور باقی سامان برآمد کیاجاتا ہے۔

تحصیلدار غنی وزیر نے ٹی این این کو بتایا کہ چند روز قبل غلام خان بارڈرپر پاکستان اور افغانستان کے حکام کے درمیان ایک اہم ملاقات ہوئی جس میں اعلیٰ انتظامی، عسکری اور کسٹم حکام کے علاوہ این ایل سی افسران نے بھی شرکت کی۔

انہوں نے کہا کہ میٹنگ کے دوران افغان حکام نے خشک میوہ جات اور کوئلہ پرلگائی گئی پابندی اٹھالی ہے جس کے بعد کوئلے سے بھرے 40 ٹرک بھی پاکستان پہنچ گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ وقت میں 50 سے 100 تک گاڑیاں غلام خان بارڈر کے ذریعے آتی ہیں اور ہم کوشش کررہے ہیں کہ آنے والے دنوں میں یہ تعداد 350 تک پہنچ جائے۔

تحصیلدار غنی وزیر نے بتایا کہ غلام خان برڈرپر غلام خان بارڈرپر کاروبار اور تجارت سے خوش ہے اور حکومت بھی چاہتی ہے کہ یہاں کاروبار کو وسعت دی جاسکیں۔ انہوں نے کہا کہ اب کاروبار سے وابستہ افراد اب دن رات اپنے مال لے جاسکتے ہیں اور اس سلسلے میں ٹرانسپورٹرز اور کاروباریوں کو خصوصی کارڈز بھی دیئے جاچکے ہیں۔

غلام خان بارڈر پرموجود کاروبارسے وابستہ افراد اور ٹرانسپورٹرز کا کہنا ہیں کہ گاڑیوں کے ساتھ صرف ایک شخص کو جانے کی اجازت ہوتی ہے جس کی وجہ سے انکو مشکلات کا سامنا ہے، حکومت کو چاہیئے کہ اس سلسلے میں اقدامات کریں۔

ایک مقامی باشندے یحییٰ جان کا کہنا ہے کہ غلام خان میں آباد سیدگی اور گربز اقوام مشکلات سے دوچارہیں کیونکہ ان اقوام کے آدھے لوگ اس پار جبکہ آدھے اس پار آباد ہیں، انہوں نے کہا کہ نقل مکانی کے بعد وہ مشکلات سے دوچارہیں کیونکہ شادی بیاہ اورغم کے موقع انکو آنے جانے میں تکلیف ہوتی ہے۔

انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ بارڈرپران کے لیے مخصوص آسانی بنائی جائے اور یا طورخم اور چمن بارڈر کی طرح غلام خان بارڈرپر بھی ویزا سسٹم متعارف کروایا جائے۔